وراثتی جائیداد اپنے نام کرانے کا طریقہ — آسان رہنما 2026

وراثتی جائیداد اپنے نام کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے یونین کونسل سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور NADRA سے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بنوائیں، پھر NADRA کے سکسیشن یونٹ سے وراثتی سرٹیفکیٹ (یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن) حاصل کریں، اور آخر میں یہ سرٹیفکیٹ پٹواری/ریونیو دفتر یا ہاؤسنگ سوسائٹی میں جمع کروا کر شرعی حصص کے مطابق وراثتی انتقال کرا لیں۔
پاکستان میں کسی رشتہ دار کی وفات کے بعد جائیداد کو قانونی طور پر ورثا کے نام کرانا ضروری ہے، ورنہ نہ فروخت ممکن ہے، نہ قرض کے لیے رہن رکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی بعد میں تنازعات سے بچا جا سکتا ہے۔ اس گائیڈ میں ہم مرحلہ وار بتائیں گے کہ وراثتی سرٹیفکیٹ کیسے ملتا ہے، کیا دستاویزات چاہئیں، شرعی حصے کیسے بنتے ہیں، اور فیس و دورانیہ کتنا ہوتا ہے۔

وراثتی جائیداد اپنے نام کرانے کا طریقہ — مکمل عمل کیا ہے
وراثتی جائیداد اپنے نام کرانے کا طریقہ دراصل دو مراحل پر مشتمل ہے:
- وراثتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا — یہ سرٹیفکیٹ ثابت کرتا ہے کہ آپ قانونی وارث ہیں
- وراثتی انتقال کرانا — سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر زمین کے سرکاری ریکارڈ میں مالک کا نام تبدیل کرانا
منقولہ جائیداد (بینک اکاؤنٹ، شیئرز، گاڑی) کے لیے سکسیشن سرٹیفکیٹ اور غیر منقولہ جائیداد (گھر، پلاٹ، زمین) کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن درکار ہوتا ہے۔ دونوں NADRA یا سول کورٹ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ قانونی اصطلاح میں متوفی کی چھوڑی گئی جائیداد کو "متروکہ جائیداد" کہا جاتا ہے، اور جب تک یہ باضابطہ طور پر ورثا کے نام منتقل نہ ہو، بینک، رجسٹرار یا ریونیو دفتر اسے مرحوم ہی کی ملکیت تصور کرتے رہتے ہیں۔
وراثتی سرٹیفکیٹ (فرد ورثا) کہاں سے اور کیسے ملے گا
NADRA نے 2021 سے سول کورٹ کا متبادل ایک تیز 5 مرحلوں پر مشتمل عمل متعارف کرایا ہے:
- درخواست کا آغاز — NADRA سکسیشن یونٹ پر جا کر کیس شروع کریں
- اثاثوں کی تفصیل — منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی مکمل فہرست جمع کروائیں
- بائیومیٹرک تصدیق — تمام ورثا کی انگوٹھے کی تصدیق لازمی
- اخباری اشتہار — 14 دن کے لیے عوامی اطلاع شائع ہوتی ہے تاکہ کسی کو اعتراض ہو تو کر سکے
- سرٹیفکیٹ کا اجرا — کوئی اعتراض نہ ہو تو وراثتی سرٹیفکیٹ جاری ہو جاتا ہے
NADRA — سکسیشن سرٹیفکیٹ سروس پر مکمل تفصیل اور درخواست کا طریقہ دستیاب ہے۔ اگر کوئی وارث اعتراض کرے تو معاملہ سول کورٹ میں چلا جاتا ہے، جہاں فیصلے میں 6 ماہ سے 2 سال تک لگ سکتے ہیں۔

وراثتی جائیداد اپنے نام کرانے کے لیے درکار دستاویزات
درخواست سے پہلے یہ دستاویزات مکمل کر لیں:
- ڈیتھ سرٹیفکیٹ — یونین کونسل سے جاری شدہ
- فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) — NADRA سے، تمام ورثا کے نام کے ساتھ
- CNIC کینسلیشن سرٹیفکیٹ — متوفی کے شناختی کارڈ کی منسوخی کا ثبوت
- تمام ورثا کے شناختی کارڈ — تصدیق شدہ کاپیاں
- جائیداد کی تفصیل — فرد ملکیت، رجسٹری یا الاٹمنٹ لیٹر
- حلف نامہ — اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ
- گارڈین شپ سرٹیفکیٹ — اگر کوئی وارث نابالغ ہو
FRC بنوانے کا مکمل طریقہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) نکالنے کا طریقہ میں دیکھیں۔

مرحلہ وار طریقہ — سرٹیفکیٹ سے انتقال تک
- ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور FRC بنوائیں — یونین کونسل اور NADRA سے
- وراثتی سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کریں — NADRA سکسیشن یونٹ یا سول کورٹ سے
- بائیومیٹرک اور اشتہار کا مرحلہ مکمل کریں — تمام ورثا کی تصدیق
- سرٹیفکیٹ وصول کریں — 15 سے 30 دن میں (NADRA کے ذریعے)
- انتقال کے لیے درخواست دیں — پٹواری علاقے میں آرضی ریکارڈ سینٹر، یا ہاؤسنگ سوسائٹی (DHA/بحریہ) میں لیٹر آف ایڈمنسٹریشن جمع کروائیں
- ریونیو افسر کی تصدیقی اسمبلی — گرداوری اور ریکارڈ کی جانچ
- نیا ریکارڈ/الاٹمنٹ لیٹر وصول کریں — اب زمین ورثا کے نام درج ہو جاتی ہے
زمین کے انتقال کے مکمل قانونی طریقہ کار کے لیے اراضی کا انتقال کرانے کا طریقہ بھی پڑھیں۔

شرعی حصص کے مطابق تقسیم
وراثتی جائیداد کی تقسیم اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق ہوتی ہے۔ چند بنیادی حصص یہ ہیں:
| وارث | حصہ |
|---|---|
| بیوہ | اولاد کی موجودگی میں 1/8، بغیر اولاد 1/4 |
| ماں | بیٹے کی جائیداد میں 1/6؛ اگر دیگر وارث نہ ہوں تو 1/3 |
| بیٹی (اکیلی) | نصف حصہ؛ ایک سے زائد بیٹیاں ہوں تو مجموعی طور پر 2/3 |
| بیٹا | بیٹی کے مقابلے میں دوگنا حصہ |
| بہن | بھائی کے حصے کا نصف |
یہ عمومی اصول ہیں — اصل تقسیم ورثا کی تعداد اور نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے پیچیدہ صورتحال میں مستند عالم دین یا وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔
مقررہ حصص (فرائض) کی تقسیم کے بعد جو رقم بچ جائے وہ عصبہ (باقی ماندہ ورثا) میں تقسیم ہوتی ہے — عام طور پر بیٹے، اور بیٹے کی عدم موجودگی میں بھائی یا چچا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف بیٹیوں والے خاندان میں مقررہ حصص کے بعد بچی ہوئی جائیداد قریبی مرد رشتہ داروں کو منتقل ہو سکتی ہے، جو اکثر خاندانی تنازع کی جڑ بنتا ہے — اسی لیے تقسیم سے پہلے کسی مستند عالم یا وراثتی امور کے وکیل سے حصص کی حتمی فہرست تصدیق کروا لینا بہتر ہے۔
فیس و دورانیہ
| مرحلہ | دورانیہ | لاگت |
|---|---|---|
| وراثتی سرٹیفکیٹ (NADRA) | 15 – 30 دن | مقررہ سرکاری فیس |
| وراثتی سرٹیفکیٹ (سول کورٹ) | 6 ماہ – 2 سال | وکیل کی فیس + عدالتی اخراجات |
| انتقال (پٹواری علاقہ) | چند ہفتے | تقریباً 500 – 2,000 روپے (اسٹامپ ڈیوٹی نہیں) |
| انتقال (CDA/ہاؤسنگ سوسائٹی) | چند ہفتے | تقریباً 5,000 روپے |
وراثتی انتقال پر عام طور پر اسٹامپ ڈیوٹی نہیں لگتی کیونکہ یہ خریداری نہیں بلکہ قانونی وراثت کی منتقلی ہے۔ اگر معاملہ سول کورٹ میں جائے تو سرکاری فیس کے علاوہ وکیل کی فیس بھی الگ سے برداشت کرنی پڑتی ہے، جو کیس کی نوعیت اور جائیداد کی مالیت کے لحاظ سے کافی زیادہ ہو سکتی ہے — اسی لیے جہاں تک ممکن ہو، NADRA کا راستہ اپنانا وقت اور خرچہ دونوں کے لحاظ سے سود مند ہے۔

نابالغ وارث اور تنازع کی صورت میں
- نابالغ وارث — اگر کوئی وارث 18 سال سے کم عمر ہو تو سول کورٹ سے گارڈین شپ سرٹیفکیٹ لینا لازمی ہے تاکہ اس کا حصہ محفوظ رہے
- وارث کا اعتراض — کوئی وارث دستخط سے انکار کرے یا اعتراض کرے تو NADRA سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتا اور معاملہ سول کورٹ میں چلا جاتا ہے
- گمشدہ وارث — اگر کوئی وارث دستیاب نہ ہو تو اس کا حصہ محفوظ رکھا جاتا ہے، تقسیم سے خارج نہیں کیا جا سکتا
- بغیر رضامندی فروخت — کوئی ایک وارث دیگر ورثا کی رضامندی کے بغیر جائیداد فروخت نہیں کر سکتا
تنازع کی صورت میں جلد بازی سے گریز کریں اور شروع میں ہی مصالحت کی کوشش کریں، کیونکہ عدالتی کارروائی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم ورثا اور سیکشن 7E ٹیکس
- بیرونِ ملک مقیم ورثا — Pak-ID موبائل ایپ یا متعلقہ پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق مکمل کر سکتے ہیں، پاکستان واپس آنا لازمی نہیں
- پاور آف اٹارنی — مقامی رشتہ دار کے نام تصدیق شدہ پاور آف اٹارنی بنوا کر انتقال کا عمل مقامی سطح پر مکمل کرایا جا سکتا ہے
- سیکشن 7E ٹیکس — FBR کے سیکشن 7E کے تحت بعض جائیدادوں پر ڈیمڈ آمدنی ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے، تاہم ذاتی رہائشی گھر یا واحد پلاٹ کی صورت میں چھوٹ مل سکتی ہے — تفصیل کے لیے FBR — fbr.gov.pk دیکھیں
- کوئی وراثتی ٹیکس نہیں — پاکستان میں وراثت کی منتقلی پر علیحدہ کوئی وراثتی ٹیکس نافذ نہیں
پنجاب میں زمین کے آن لائن ریکارڈ کی تصدیق کے لیے PLRA — punjab-zameen.gov.pk پر انتقال کے بعد نیا ریکارڈ چیک کیا جا سکتا ہے۔
اختتام
وراثتی جائیداد اپنے نام کرانے کا طریقہ اپنانا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ خاندانی تنازعات سے بچاؤ کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور FRC سے شروع کر کے، وراثتی سرٹیفکیٹ حاصل کریں، شرعی حصص کے مطابق تقسیم طے کریں اور بروقت انتقال کروا لیں — جتنی جلدی یہ عمل مکمل ہو گا، اتنا ہی جائیداد محفوظ اور تنازعات سے پاک رہے گی۔ زمین اور جائیداد سے متعلق دیگر ضروری کاغذات کے لیے زمین و جائیداد کے کاغذات کا گائیڈ ضرور ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
وراثتی زمین اپنے نام کیسے کریں؟
وراثتی زمین اپنے نام کرانے کے لیے پہلے یونین کونسل سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور NADRA سے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) بنوائیں۔ اس کے بعد NADRA کے سکسیشن یونٹ سے وراثتی سرٹیفکیٹ (متروکہ جائیداد کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن) حاصل کریں، جس میں تمام ورثا کے بائیومیٹرک اور 14 دن کا اخباری اشتہار شامل ہوتا ہے۔ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد یہ متعلقہ پٹواری/ریونیو دفتر یا ہاؤسنگ سوسائٹی میں جمع کروا کر وراثتی انتقال کرایا جاتا ہے، جس سے زمین ورثا کے نام منتقل ہو جاتی ہے۔
وراثتی سرٹیفکیٹ کہاں سے ملے؟
وراثتی سرٹیفکیٹ دو طریقوں سے مل سکتا ہے — NADRA کے سکسیشن یونٹ سے، جہاں 15 سے 30 دن میں سرٹیفکیٹ جاری ہو جاتا ہے، یا سول کورٹ سے درخواست دائر کر کے، جس میں عام طور پر کئی مہینے سے 2 سال تک لگ سکتے ہیں۔ آسان اور تیز راستہ NADRA کا طریقہ ہے، جب تک کہ کسی وارث کو اعتراض نہ ہو۔
کیا تمام ورثا کا ہونا ضروری ہے؟
جی ہاں، وراثتی سرٹیفکیٹ اور انتقال کے عمل میں تمام قانونی ورثا کا اندراج اور رضامندی ضروری ہے۔ اگر کوئی وارث دستیاب نہ ہو تو اس کا حصہ محفوظ رکھا جاتا ہے، اور اگر کوئی وارث اعتراض کرے یا دستخط سے انکار کرے تو معاملہ NADRA کی بجائے سول کورٹ میں چلا جاتا ہے۔
نابالغ وارث کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟
اگر کوئی وارث نابالغ (18 سال سے کم عمر) ہو تو اس کے حصے کے تحفظ کے لیے سول کورٹ سے گارڈین شپ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ نابالغ کا حصہ کسی سرپرست کی نگرانی میں محفوظ رہے گا اور بالغ ہونے تک اس کے مفاد کا خیال رکھا جائے گا۔
کیا وراثتی جائیداد پر ٹیکس لگتا ہے؟
پاکستان میں وراثتی جائیداد پر کوئی علیحدہ وراثتی ٹیکس نہیں ہے، تاہم FBR کے سیکشن 7E کے تحت بعض صورتوں میں جائیداد کی ڈیمڈ آمدنی پر ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔ ذاتی رہائشی گھر یا واحد پلاٹ کی صورت میں چھوٹ بھی مل سکتی ہے، اس لیے حتمی صورتحال کے لیے FBR کی ویب سائٹ یا ٹیکس مشیر سے رجوع کریں۔
