نویں جماعت کی رجسٹریشن کا طریقہ — اسکول، پرائیویٹ، ب فارم اور لیٹ فیس

نویں جماعت کی رجسٹریشن کا طریقہ یہ ہے کہ اسکول بچے کا ب فارم نمبر، نام، والد کا نام، تاریخ پیدائش، تصویر اور مضامین بورڈ کے آن لائن پورٹل پر درج کرتا ہے، بورڈ کا چالان بینک میں جمع ہوتا ہے، اور بورڈ بچے کو انرولمنٹ نمبر جاری کر دیتا ہے۔ پرائیویٹ امیدوار یہی فارم خود بورڈ کی ویب سائٹ سے بھرتا ہے۔
یہ اندراج ایک ہی بار ہوتا ہے، مگر اس میں ہونے والی غلطی میٹرک کی سند تک ساتھ چلتی ہے۔ اگر اسکول تاریخ گزار دے یا ب فارم کا نمبر غلط لکھ دے تو بچہ اس سال امتحان سے رہ سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسکول کیا بھیج رہا ہے اور کب تک۔

رجسٹریشن اور داخلہ دو الگ کام ہیں
بہت سے والدین ان دونوں کو ایک سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے الجھن ہوتی ہے:
- رجسٹریشن (انرولمنٹ): بورڈ کے ریکارڈ میں بچے کا پہلا اندراج۔ یہ نویں جماعت کے شروع میں ایک بار ہوتا ہے۔ اس سے ملنے والا نمبر نویں اور دسویں دونوں جماعتوں میں چلتا ہے۔
- داخلہ (ایڈمیشن): امتحان میں بیٹھنے کا فارم اور امتحانی فیس۔ یہ نویں کے امتحان سے پہلے الگ اور دسویں کے امتحان سے پہلے پھر الگ بھیجا جاتا ہے۔
یعنی اگر رجسٹریشن ہی نہ ہوئی ہو تو بعد میں امتحانی داخلہ بھیجنے میں بھی رکاوٹ آتی ہے۔ امتحان والا داخلہ اور رول نمبر سلپ الگ مرحلہ ہے، اس کے لیے رول نمبر سلپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ دیکھیں۔

اسکول کے ذریعے نویں جماعت کی رجسٹریشن کا طریقہ، مرحلہ وار
پنجاب کے بورڈز (لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد وغیرہ)، وفاقی بورڈ اور پشاور بورڈ میں باقاعدہ طالب علم کا اندراج اسکول کے لاگ اِن سے ہوتا ہے۔ عام ترتیب یہ ہے:
- اسکول فارم مانگتا ہے: نویں جماعت شروع ہوتے ہی اسکول والدین سے ب فارم کی کاپی، تصویر اور مضامین کی پسند (سائنس یا آرٹس، بائیولوجی یا کمپیوٹر) لیتا ہے۔
- پورٹل پر ڈیٹا: اسکول بچے کا نام، والد کا نام، تاریخ پیدائش، ب فارم نمبر، پتہ، موبائل نمبر اور مضامین بورڈ کی سائٹ پر درج کرتا ہے اور تصویر اپ لوڈ کرتا ہے۔
- چالان: پورٹل خودکار بینک چالان بناتا ہے۔ اسکول یہ رقم بورڈ کے بتائے ہوئے بینک میں جمع کرتا ہے۔
- ہارڈ کاپی: کئی بورڈ پرنسپل کے دستخط والی فہرست، فیس کی رسید اور کورنگ لیٹر بھی مانگتے ہیں۔
- بورڈ کی جانچ: بورڈ ڈیٹا اور فیس ملا کر بچے کو انرولمنٹ یا رجسٹریشن نمبر دیتا ہے۔
- کارڈ یا فہرست: اسکول اپنے لاگ اِن سے رجسٹریشن کارڈ یا تصدیقی فہرست نکالتا ہے۔ یہ کاپی والدین ضرور مانگیں۔
نمبر کی بناوٹ بورڈ کے حساب سے مختلف ہے۔ مثال کے طور پر پشاور بورڈ کے نمبر میں سال، جماعت کا کوڈ، اسکول کا کوڈ اور طالب علم کا نمبر ہوتا ہے۔

ب فارم کے بغیر رجسٹریشن کیوں رکتی ہے؟
بورڈ بچے کی شناخت ب فارم سے کرتا ہے۔ لاہور بورڈ کے آن لائن فارم میں صاف لکھا ہوتا ہے کہ ب فارم نمبر اور تاریخ پیدائش آگے بڑھنے کے بعد تبدیل نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ نادرا کے ریکارڈ کے عین مطابق ہونے چاہئیں۔
اسکول کو دینے والے کاغذات کی فہرست:
- ب فارم کی صاف کاپی (نادرا کا کمپیوٹرائزڈ)
- والد یا سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
- حالیہ پاسپورٹ سائز تصاویر (بورڈ کی ہدایت کے مطابق پس منظر)
- پچھلے اسکول کا لیونگ سرٹیفکیٹ، اگر بچہ آٹھویں کے بعد اسکول بدل کر آیا ہے
- فعال موبائل نمبر، جس پر بورڈ کے پیغامات آ سکیں
اگر ب فارم ابھی نہیں بنا تو رجسٹریشن کی تاریخ کا انتظار نہ کریں۔ ب فارم بنوانے کا طریقہ پڑھیں اور فوراً درخواست دیں۔ ب فارم اور اسکول کے ریکارڈ میں تاریخ پیدائش مختلف ہو تو پہلے یہ فرق دور کرائیں۔
عمر کی شرط: ہر بورڈ کم از کم عمر مقرر کرتا ہے۔ لاہور بورڈ نے سیشن 2025-27 سے یہ حد 11 سال 2 ماہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنے بورڈ کی تازہ حد نوٹیفکیشن میں دیکھیں۔

اسکول والا اور پرائیویٹ طالب علم: فرق ایک نظر میں
| پہلو | اسکول کا طالب علم | پرائیویٹ امیدوار |
|---|---|---|
| فارم کون بھرتا ہے | اسکول، بورڈ پورٹل پر | امیدوار خود، بورڈ کی ویب سائٹ یا ون ونڈو سے |
| تصدیق | پرنسپل کے دستخط | علاقے کے کسی سرکاری اسکول کے ہیڈ یا مجاز افسر سے تصدیق شدہ فارم |
| کاغذات | ب فارم، تصویر | ب فارم یا برتھ سرٹیفکیٹ، والد کا شناختی کارڈ، تصدیق شدہ تصاویر، کبھی لیونگ سرٹیفکیٹ |
| فیس | اسکول چالان جمع کرتا ہے | امیدوار خود بینک یا آن لائن جمع کرتا ہے |
| عام وقت | نویں کے سیشن کے شروع میں | امتحانی داخلے کے ساتھ |
پرائیویٹ امیدوار کے لیے رجسٹریشن اور امتحانی داخلہ عموماً ایک ساتھ ہوتے ہیں، اور سائنس مضامین پر پابندیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس کی پوری تفصیل پرائیویٹ میٹرک کا داخلہ بھیجنے کا طریقہ میں ہے۔

لیٹ فیس سے بچنے کے لیے تاریخوں کا حساب
بورڈ ہر سال الگ شیڈول دیتے ہیں۔ پچھلے دو سال کی خبروں سے رجحان کا اندازہ ہوتا ہے:
| سال اور بورڈ | عام فیس کی آخری تاریخ | لیٹ مرحلہ |
|---|---|---|
| پنجاب بورڈز، سیشن 2025-27 | 15 اپریل سے 29 مئی 2025 | 13 جون 2025 تک جرمانے کے ساتھ |
| پنجاب بورڈز، 2027 کے امتحان کے لیے | 8 جون 2026 | 23 جون 2026 تک، فی طالب علم 600 روپے |
| وفاقی بورڈ (FBISE)، سیشن 2026-28 | باقاعدہ مدت ختم | دوبارہ کھلا پورٹل 21 جولائی 2026 تک، دگنی فیس |
یہ تاریخیں گزر چکی ہیں اور صرف اندازے کے لیے ہیں۔ نویں جماعت کی رجسٹریشن کا طریقہ ہر سال تقریباً یہی رہتا ہے، بدلتی صرف تاریخیں اور رقم ہیں۔ رجسٹریشن کی اصل فیس اور لیٹ فیس ہر بورڈ کا نوٹیفکیشن بتاتا ہے، اور ایک ہی سال کی مختلف خبروں میں رقم مختلف لکھی ملتی ہے۔ اس لیے رقم اسکول سے بورڈ کے چالان پر خود دیکھیں۔
والدین کے لیے آسان اصول: نویں جماعت میں داخلے کے پہلے ہی مہینے اسکول سے پوچھیں "رجسٹریشن کب بھیج رہے ہیں؟" اگر اسکول لیٹ فیس کی رقم بچے سے مانگے تو وجہ پوچھنا آپ کا حق ہے، کیونکہ تاخیر اکثر اسکول کی طرف سے ہوتی ہے۔

انرولمنٹ نمبر ملنے کے بعد یہ چیزیں ضرور دیکھیں
رجسٹریشن کارڈ یا اسکول کی فہرست ہاتھ میں آئے تو یہ پانچ چیزیں ب فارم سے ملائیں:
- بچے کے نام کے ہجے (اردو اور انگریزی دونوں)
- والد کا نام
- تاریخ پیدائش
- ب فارم نمبر کا ہر ہندسہ
- مضامین اور گروپ
کوئی غلطی ہو تو اسی ہفتے اسکول کو تحریری طور پر بتائیں تاکہ وہ بورڈ کی مقررہ مدت میں درستی بھیجے۔ کئی بورڈ اس مرحلے پر معمولی فیس سے درستی کر دیتے ہیں، جبکہ سند چھپنے کے بعد یہی کام کہیں زیادہ مشکل ہے۔ وہ طریقہ سند میں غلطی درست کرانے کا طریقہ میں بیان ہے۔ کارڈ کی ایک فوٹو کاپی گھر پر رکھیں، دسویں کے داخلے میں یہی نمبر کام آئے گا۔

دوسرے بورڈ یا اسکول سے آنے والے بچے
اسکول بدلنا، بورڈ وہی: اگر بچہ نویں جماعت میں اسی بورڈ کے کسی اور اسکول میں جاتا ہے تو نیا اندراج نہیں ہوتا۔ دونوں اسکول کے سربراہ پورٹل کے ذریعے اسکول تبدیلی کی درخواست دیتے ہیں۔ پشاور بورڈ میں اس کی آخری حد تعلیمی سال کی 30 اکتوبر لکھی ہے، دوسرے بورڈز کی حد اپنی ہے۔
بورڈ بدلنا: شہر بدلنے پر پچھلے بورڈ سے مائیگریشن لینی پڑتی ہے، پچھلا نمبر نئے بورڈ میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے لیے مائیگریشن سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ دیکھیں۔ نئے بورڈ کے علاقے میں رہائش کا ثبوت بھی مانگا جا سکتا ہے۔
جو بچہ پہلے کبھی بورڈ میں رجسٹر ہو چکا ہو: لاہور بورڈ کے مطابق ایسے امیدوار کو دوبارہ اندراج کی ضرورت نہیں، وہ پرانا نمبر ہی استعمال کرے گا۔ دوبارہ رجسٹریشن کرانے سے ریکارڈ میں دوہرا اندراج بنتا ہے جو بعد میں مسئلہ کرتا ہے۔
سرکاری معلومات کہاں سے لیں
- بی آئی ایس ای لاہور کی سرکاری ویب سائٹ، جہاں رجسٹریشن اور فیس کے نوٹیفکیشن آتے ہیں
- وفاقی بورڈ (FBISE)، اسلام آباد اور وفاقی اداروں کے اسکولوں کے لیے
- بی آئی ایس ای پشاور کا انرولمنٹ اور مائیگریشن صفحہ
دوسرے صوبوں اور شہروں کے بورڈز کی اپنی سائٹس ہیں۔ فیس اور تاریخ کے لیے صرف سرکاری نوٹیفکیشن پر بھروسہ کریں، سوشل میڈیا کی تصویروں پر نہیں۔
اسکول سے تصدیق ہی بچے کا سال بچاتی ہے

نویں جماعت کی رجسٹریشن کا طریقہ کاغذ پر اسکول کا کام ہے، مگر سب سے بڑا نقصان والدین کا ہوتا ہے جب تاریخ گزر جائے یا ب فارم کا نمبر غلط چلا جائے۔ تین کام کافی ہیں: ب فارم وقت پر بنوا لیں، اسکول سے رجسٹریشن کی تاریخ پوچھ لیں، اور کارڈ ملتے ہی پانچوں تفصیلات ملا لیں۔ پرائیویٹ امیدوار یہی فارم خود سنگل فیس کی مدت میں بھیجیں تو کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا طالب علم خود نویں جماعت کی رجسٹریشن کروا سکتا ہے؟
اسکول میں پڑھنے والا طالب علم خود رجسٹریشن نہیں کرتا۔ اس کا اندراج اسکول بورڈ کے آن لائن پورٹل پر کرتا ہے۔ وفاقی بورڈ نے بھی واضح کیا ہے کہ طلبہ پورٹل پر براہِ راست درخواست نہیں دے سکتے۔ صرف پرائیویٹ امیدوار بورڈ کی ویب سائٹ سے اپنا فارم خود بھرتا ہے۔
ب فارم نہ ہو تو کیا رجسٹریشن ہو جائے گی؟
زیادہ تر بورڈ ب فارم نمبر کے بغیر آن لائن اندراج مکمل نہیں ہونے دیتے، کیونکہ بچے کا نام اور تاریخ پیدائش اسی سے ملائی جاتی ہے۔ اگر ب فارم نہیں بنا تو فوراً نادرا سے بنوائیں۔ کچھ بورڈ عارضی طور پر برتھ سرٹیفکیٹ قبول کرتے ہیں، اس کی تصدیق اپنے بورڈ سے کریں۔
نویں جماعت کی رجسٹریشن کی لیٹ فیس کتنی ہے؟
پنجاب کے بورڈز کے 2026 کے شیڈول میں مقررہ تاریخ کے بعد فی طالب علم 600 روپے لیٹ فیس کی خبر آئی تھی، جبکہ وفاقی بورڈ نے دوبارہ کھولے گئے پورٹل پر دگنی فیس رکھی۔ یہ رقم ہر سال اور ہر بورڈ میں بدلتی ہے، اس لیے تازہ نوٹیفکیشن دیکھیں۔
نویں جماعت کے لیے کم از کم عمر کتنی ہے؟
ہر بورڈ کی شرط الگ ہے۔ لاہور بورڈ نے سیشن 2025-27 سے کم از کم عمر 11 سال 2 ماہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسرے بورڈز کی حد مختلف ہو سکتی ہے، لہٰذا اپنے بورڈ کا تازہ رجسٹریشن نوٹیفکیشن پڑھیں۔
رجسٹریشن ہر سال کروانی پڑتی ہے؟
نہیں۔ نویں جماعت میں ایک بار اندراج ہوتا ہے اور جو انرولمنٹ یا رجسٹریشن نمبر ملتا ہے وہی دسویں جماعت میں بھی چلتا ہے۔ البتہ ہر امتحان کے لیے داخلہ فارم اور امتحانی فیس الگ سے جمع ہوتی ہے۔
رجسٹریشن کارڈ میں نام غلط ہو تو کیا کریں؟
فوراً اسکول کو بتائیں تاکہ وہ بورڈ کی مقررہ مدت کے اندر درستی کی درخواست بھیجے۔ ب فارم کی کاپی ساتھ دیں۔ یہی غلطی بعد میں سند پر چھپ جائے تو اسے ٹھیک کروانا لمبا اور مہنگا کام بن جاتا ہے۔
