مائیگریشن سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ — بورڈ سے بورڈ اور بورڈ سے یونیورسٹی

مائیگریشن سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ یہ ہے کہ جس بورڈ سے آپ نے امتحان پاس کیا ہے اس کی ویب سائٹ سے فارم بھریں، "بورڈ ٹو بورڈ" یا "بورڈ ٹو یونیورسٹی" کیٹیگری چنیں، بینک میں چالان جمع کرائیں، ادارے کے سربراہ سے مہر لگوائیں اور فارم بورڈ کے فیسلیٹیشن سنٹر میں جمع کرا دیں۔
یہ سرٹیفکیٹ بتاتا ہے کہ پرانے بورڈ کو آپ کے دوسرے بورڈ یا یونیورسٹی میں جانے پر کوئی اعتراض نہیں اور آپ کا ریکارڈ صاف ہے۔ عام مثال یہ ہے کہ بچے نے میٹرک بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) لاہور سے کیا اور اب فرسٹ ایئر اسلام آباد کے کسی کالج میں لے رہا ہے جو FBISE سے منسلک ہے۔ ایسے میں نیا بورڈ رجسٹریشن سے پہلے اصل مائیگریشن سرٹیفکیٹ مانگتا ہے۔

مائیگریشن یا NOC؟ پہلے یہ طے کریں کہ آپ کو کون سا کاغذ چاہیے
مائیگریشن سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ شروع کرنے سے پہلے یہ جان لیں کہ بہت سے والدین یہ دونوں نام ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے غلط کیٹیگری کا چالان جمع ہو جاتا ہے۔ فرق یوں سمجھیں:
| صورتحال | کون سا کاغذ | کون جاری کرتا ہے |
|---|---|---|
| میٹرک پاس کر کے دوسرے بورڈ کے کالج میں فرسٹ ایئر | مائیگریشن سرٹیفکیٹ (بورڈ ٹو بورڈ) | میٹرک والا بورڈ |
| انٹر پاس کر کے دوسرے صوبے یا الگ الحاق والی یونیورسٹی میں داخلہ | مائیگریشن سرٹیفکیٹ (بورڈ ٹو یونیورسٹی) | انٹر والا بورڈ |
| نویں کے بعد گھر شفٹ ہونے پر دسویں دوسرے بورڈ سے | NOC یا رجسٹریشن منتقلی | جس بورڈ میں رجسٹریشن ہوئی |
| ایک ہی بورڈ کے اندر اسکول یا کالج بدلنا | عموماً بورڈ کا کاغذ نہیں، ادارے کا لیونگ سرٹیفکیٹ | پرانا اسکول یا کالج |
آخری صورت میں اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ کافی ہوتا ہے۔ لاہور بورڈ اپنے ای پورٹل پر NOC اور مائیگریشن کو چار کیٹیگریز میں دیتا ہے: بورڈ ٹو بورڈ، بورڈ ٹو یونیورسٹی، کالج ٹو کالج اور اسکول ٹو اسکول۔ یونیورسٹی کے اندر ایک ادارے سے دوسرے میں جانا الگ معاملہ ہے، اس کی تفصیل یونیورسٹی تبدیل کرنے کے طریقے میں ہے۔

بورڈ سے مائیگریشن سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ، چھ مراحل میں
ذیل میں مائیگریشن سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ BISE لاہور کی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ پنجاب کے دوسرے بورڈز (راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان وغیرہ) اور خیبر پختونخوا کے بورڈز کا ڈھانچہ بھی تقریباً یہی ہے، صرف پورٹل اور بینک بدلتے ہیں۔
- نئے ادارے سے لکھوا لیں: پہلے پوچھیں کہ انہیں بورڈ ٹو بورڈ چاہیے یا بورڈ ٹو یونیورسٹی، اور کیا ان کے فارم پر بھی مہر لگنی ہے۔
- بورڈ کی ویب سائٹ کھولیں: BISE لاہور کی ویب سائٹ پر NOC/مائیگریشن کا آپشن کھولیں اور رول نمبر، سال، امتحان اور نام درست بھریں۔
- کیٹیگری چنیں اور فارم ڈاؤن لوڈ کریں: "Proceed Next" کے بعد فارم اور چالان پرنٹ ہو جاتا ہے۔
- فیس جمع کرائیں: لاہور بورڈ میں ادائیگی HBL برانچ، HBL Konnect یا 1-Bill سے ہوتی ہے۔ رسید کی اصل کاپی سنبھال کر رکھیں۔
- مہر لگوائیں: فارم پر پرانے اور نئے ادارے کے سربراہ کی مہر اور دستخط لگوائیں۔ اگر بچہ پرائیویٹ امیدوار تھا تو بورڈ کی ہدایت کے مطابق گزیٹڈ افسر سے تصدیق کرائیں۔
- جمع کرائیں: فارم 86 موزنگ روڈ والے دفتر کے فیسلیٹیشن سنٹر پر خود لے جائیں یا ڈاک سے بھیجیں۔ ڈاک کی صورت میں اپنا مکمل پتہ اور موبائل نمبر ضرور لکھیں کیونکہ سرٹیفکیٹ اسی پتے پر آتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق لاہور بورڈ کے فیسلیٹیشن سنٹر پر خود جانے والوں کو سرٹیفکیٹ چند گھنٹوں میں مل جاتا ہے، جبکہ ڈاک والی درخواست پر تقریباً تین کاری دن لگتے ہیں۔ رش کے دنوں (اگست، ستمبر) میں اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

فارم کے ساتھ یہ کاغذات نتھی کریں
زیادہ تر بورڈز میں یہ چیزیں مانگی جاتی ہیں:
- پُر کیا ہوا مائیگریشن فارم، دونوں اداروں کی مہر کے ساتھ
- فیس کے چالان کی اصل رسید
- رزلٹ کارڈ (DMC) یا رجسٹریشن کارڈ کی فوٹو کاپی
- دو پاسپورٹ سائز تصاویر
- طالب علم کے ب فارم یا شناختی کارڈ کی کاپی (والد کے شناختی کارڈ کی کاپی بھی ساتھ رکھیں)
- نئے ادارے کا داخلہ لیٹر یا عارضی داخلے کی رسید، اگر بورڈ مانگے
اگر سند پر نام یا تاریخ پیدائش غلط ہے تو مائیگریشن سے پہلے اسے درست کرائیں، ورنہ نئے بورڈ میں بھی وہی غلطی چلی جائے گی۔ اس کا طریقہ سند میں غلطی درست کرانے والی گائیڈ میں ہے۔

فیس کا اندازہ: بورڈ بدلتا ہے تو رقم بھی بدلتی ہے
ہر بورڈ اپنی فیس خود طے کرتا ہے اور تقریباً ہر سال اس میں ردوبدل ہوتا ہے۔ نیچے کی رقمیں صرف اندازے کے لیے ہیں:
| بورڈ | بورڈ ٹو بورڈ | بورڈ ٹو یونیورسٹی | ذریعہ |
|---|---|---|---|
| BISE مردان | 1,500 روپے | 2,000 روپے | بورڈ کی سرکاری فیس فہرست |
| BISE لاہور | تقریباً 2,500 سے 4,800 روپے، کیٹیگری کے حساب سے | تقریباً 2,500 روپے | میڈیا رپورٹ، سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی |
| FBISE اسلام آباد | آن لائن چالان پر درج | آن لائن چالان پر درج | بورڈ کی آن لائن سروسز |
مردان بورڈ کی تازہ فہرست اس کے سرٹیفکیٹ سروسز صفحے پر دیکھی جا سکتی ہے۔ FBISE میں آن لائن سروسز پورٹل پر "Migration Certificate" کا آپشن ہے جہاں درخواست بھرنے کے بعد چالان پر اصل فیس آ جاتی ہے۔ کراچی، حیدرآباد اور بلوچستان کے بورڈز کی فیس ان کے دفتر یا نوٹس بورڈ سے معلوم کریں۔ ارجنٹ فیس بعض بورڈز میں الگ ہوتی ہے۔

درخواست کیوں رکتی ہے، اور اس کا آسان حل
بورڈ کے کاؤنٹر پر سب سے زیادہ واپس ہونے والے فارموں میں یہ غلطیاں ملتی ہیں:
- غلط کیٹیگری کا چالان: بورڈ ٹو یونیورسٹی کی جگہ بورڈ ٹو بورڈ کی فیس جمع ہو گئی۔ حل: پہلے نئے ادارے سے لکھوا کر لیں کہ کون سی کیٹیگری چاہیے۔
- مہر غائب: صرف ایک ادارے کی مہر لگی ہے۔ حل: دونوں سربراہوں کے دستخط اور مہر چیک کریں۔
- رول نمبر یا سال میں غلطی: آن لائن فارم میں سپلیمنٹری کی بجائے سالانہ امتحان چن لیا۔ حل: رزلٹ کارڈ سامنے رکھ کر فارم بھریں۔
- بقایا جات: کچھ بورڈ اس وقت تک مائیگریشن نہیں دیتے جب تک پرانی فیس یا جرمانہ ادا نہ ہو۔
- ریکارڈ میں مسئلہ: نتیجہ روکا ہوا ہو یا UFM (نقل کا کیس) زیرِ التوا ہو تو سرٹیفکیٹ نہیں ملتا۔ پہلے کیس نمٹائیں۔
- ڈاک میں گم ہونا: ہمیشہ رجسٹرڈ ڈاک یا کورئیر استعمال کریں اور ٹریکنگ نمبر سنبھالیں۔
اگر اصل مائیگریشن سرٹیفکیٹ گم ہو جائے تو اسی بورڈ سے ڈپلیکیٹ بنتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند حاصل کی جاتی ہے۔ بیرون ملک جانے والے طلبہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ مائیگریشن سرٹیفکیٹ تصدیقی دستاویز نہیں ہے۔ اسناد کی مہر کے لیے آئی بی سی سی اٹیسٹیشن الگ سے کرانی پڑتی ہے۔

داخلے سے دو ہفتے پہلے درخواست دیں تو یہ ایک دن کا کام ہے
مائیگریشن سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ مشکل نہیں۔ مسئلہ عموماً تاخیر سے پیدا ہوتا ہے۔ نئے کالج یا یونیورسٹی کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ بورڈ کے رش والے مہینوں میں آتی ہے، اس لیے داخلہ کنفرم ہوتے ہی کیٹیگری پوچھیں، چالان جمع کرائیں اور فارم خود فیسلیٹیشن سنٹر لے جائیں۔ فیس اور طریقہ ہر سال بدل سکتا ہے، اس لیے اپنے بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر تازہ نوٹس ضرور دیکھیں اور اصل سرٹیفکیٹ کی دو فوٹو کاپیاں اپنے پاس رکھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
مائیگریشن سرٹیفکیٹ کب ضروری ہوتا ہے؟
جب آپ نے ایک تعلیمی بورڈ سے امتحان پاس کیا ہو اور اگلی کلاس میں داخلہ کسی دوسرے بورڈ یا ایسی یونیورسٹی میں لے رہے ہوں جو اس بورڈ سے الگ ہو، تو نیا ادارہ رجسٹریشن کے لیے پرانے بورڈ کا مائیگریشن سرٹیفکیٹ مانگتا ہے۔ اسی بورڈ کے اندر کالج بدلنے پر عموماً اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔
مائیگریشن سرٹیفکیٹ اور NOC میں کیا فرق ہے؟
مائیگریشن سرٹیفکیٹ عموماً امتحان پاس کرنے کے بعد دوسرے بورڈ یا یونیورسٹی میں جانے کے لیے ملتا ہے۔ NOC اس وقت لیا جاتا ہے جب پڑھائی کے دوران، مثلاً نویں کے بعد، رجسٹریشن ایک بورڈ سے دوسرے میں منتقل کرنی ہو۔ کچھ بورڈ دونوں کو ایک ہی فارم پر الگ کیٹیگری کے طور پر دیتے ہیں۔
مائیگریشن سرٹیفکیٹ کتنے دن میں ملتا ہے؟
لاہور بورڈ کے فیسلیٹیشن سنٹر پر دستی درخواست کی صورت میں یہ اکثر اسی دن مل جاتا ہے، جبکہ ڈاک سے بھیجی گئی درخواست پر چند کاری دن لگتے ہیں۔ دوسرے بورڈز میں وقت مختلف ہے، اس لیے داخلے کی آخری تاریخ سے کم از کم دو ہفتے پہلے درخواست دیں۔
کیا مائیگریشن سرٹیفکیٹ آن لائن بنتا ہے؟
کئی بورڈز میں فارم آن لائن پُر ہوتا ہے اور چالان پرنٹ ہو جاتا ہے، جیسے لاہور بورڈ کا ای پورٹل اور FBISE کی آن لائن سروسز۔ مگر ادارے کے سربراہ کی مہر اور اصل سرٹیفکیٹ کی وصولی عموماً دستی یا ڈاک کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔
اگر مائیگریشن سرٹیفکیٹ گم ہو جائے تو کیا کریں؟
اسی بورڈ میں ڈپلیکیٹ مائیگریشن سرٹیفکیٹ کی درخواست دیں۔ عام طور پر گمشدگی کی رپورٹ یا بیان حلفی، رزلٹ کارڈ کی کاپی، شناختی کارڈ یا ب فارم کی کاپی اور مقررہ فیس درکار ہوتی ہے۔ صحیح فہرست اپنے بورڈ کے فیسلیٹیشن سنٹر سے معلوم کریں۔
کیا انٹر کے بعد یونیورسٹی کے لیے بھی مائیگریشن چاہیے؟
اگر یونیورسٹی آپ کے انٹر والے بورڈ کے علاقے سے باہر ہے یا اس کی اپنی شرط ہے تو ہاں۔ کئی میڈیکل اور جنرل یونیورسٹیاں دوسرے بورڈ کے طلبہ سے بورڈ ٹو یونیورسٹی مائیگریشن مانگتی ہیں۔ داخلہ لیٹر میں درج کاغذات کی فہرست ضرور پڑھیں۔
