ہیلتھ کارڈ بنوانے اور استعمال کا طریقہ — آسان 2026

پنشن و سرکاری الاؤنسز
ہیلتھ کارڈ بنوانے اور استعمال کا طریقہ — کلینک کے استقبالیہ پر مریضوں کی رجسٹریشن

ہیلتھ کارڈ بنوانے اور استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8500 پر SMS کر کے اہلیت چیک کریں — اگر اہل ہوں تو آپ کا اصل CNIC ہی آپ کا ہیلتھ کارڈ بن جاتا ہے، الگ سے کوئی کارڈ بنوانے کی ضرورت نہیں۔ علاج کے لیے کسی بھی پینل اسپتال جائیں، "صحت سہولت پروگرام کاؤنٹر" پر CNIC اور بائیومیٹرک تصدیق کرائیں، اور داخل مریض کے طور پر مکمل کیش لیس علاج حاصل کریں۔

پاکستان میں لاکھوں خاندانوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کا شناختی کارڈ خود ایک مفت ہیلتھ کارڈ بھی ہے، اور بعض لوگ اسپتال جا کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہر علاج مفت ہو جائے گا جبکہ حقیقت میں کچھ حدود اور شرائط بھی ہیں۔ اس گائیڈ میں ہم مرحلہ وار بتائیں گے کہ اہلیت کیسے چیک کریں، پینل اسپتال کیسے تلاش کریں، کتنی رقم تک کوریج ملتی ہے، اور اسپتال میں کارڈ استعمال کرنے کا عمل کیا ہے۔

کلینک کے استقبالیہ پر طبی عملہ مریضوں کی مدد کرتے ہوئے — ہیلتھ کارڈ بنوانے اور استعمال کا طریقہ

ہیلتھ کارڈ بنوانے اور استعمال کا طریقہ — یہ کیا ہے

صحت سہولت پروگرام (Sehat Sahulat Program) حکومتِ پاکستان کا صحتی انشورنس منصوبہ ہے جو مستحق خاندانوں کو اسپتال میں داخل ہو کر علاج کروانے پر مکمل کیش لیس سہولت دیتا ہے:

  • الگ سے کوئی پلاسٹک کارڈ بنوانے کی ضرورت نہیں — آپ کا CNIC ہی آپ کا ہیلتھ کارڈ ہے
  • یہ سہولت صرف داخل مریض (Indoor) علاج کے لیے ہے، نہ کہ عام او پی ڈی وزٹ کے لیے
  • کوریج اور اہلیت کا تعین NADRA کے ڈیٹا اور خاندان کی سماجی و معاشی حیثیت پر ہوتا ہے
  • سہولت پورے پاکستان کے پینل اسپتالوں میں یکساں طور پر دستیاب ہے

پروگرام کا انتظام صوبے کے مطابق مختلف اداروں کے ہاتھ میں ہے — پنجاب میں PHIMC (Punjab Health Initiative Management Company)، خیبر پختونخوا میں "Sehat Card Plus" کے نام سے، جبکہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاقی Sehat Sahulat Program براہِ راست یہ سہولت فراہم کرتا ہے۔ کوریج کی حد اور شرائط میں معمولی صوبائی فرق بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے صوبے کے مطابق تازہ تفصیل ضرور دیکھیں۔

اہلیت چیک (8500/پورٹل)

علاج کے لیے جانے سے پہلے اپنی اہلیت ضرور چیک کر لیں:

  1. اپنا شناختی کارڈ نمبر 8500 پر SMS کریں (خیبر پختونخوا کے لیے 9780)
  2. چند سیکنڈز میں جواب آتا ہے کہ آپ کا خاندان اہل ہے یا نہیں
  3. متبادل کے طور پر متعلقہ صوبائی پروگرام کی ویب سائٹ پر CNIC نمبر درج کر کے بھی چیک کیا جا سکتا ہے

اگر آپ نااہل ظاہر ہوں تو NADRA کے پاس اپنے خاندانی ریکارڈ کی تصدیق اور تازہ کاری کروائیں، کیونکہ اہلیت کا انحصار زیادہ تر NADRA کے ڈیٹا اور BISP — bisp.gov.pk کے سماجی و معاشی سروے پر ہوتا ہے۔ شناختی کارڈ سے متعلق مکمل رہنمائی کے لیے شناختی کارڈ بنوانے کا طریقہ دیکھیں۔

دستاویز پر انگلیوں کے نشانات، شناخت کی تصدیق کا عمل — ہیلتھ کارڈ کی اہلیت چیک کرنا

پینل اسپتالوں کی فہرست کیسے دیکھیں

ہیلتھ کارڈ صرف پروگرام کے پینل میں شامل اسپتالوں میں چلتا ہے — سرکاری اور منتخب نجی اسپتال دونوں شامل ہیں:

  • پنجاب کے رہائشی PHIMC — پنجاب ہیلتھ انیشیٹو مینجمنٹ کمپنی کی ویب سائٹ پر "Empanelled Hospitals" سیکشن سے پینل اسپتالوں کی مکمل فہرست دیکھ سکتے ہیں
  • وفاقی سطح پر Sehat Sahulat Program — pmhealthprogram.gov.pk پر بھی پینل اسپتالوں اور پروگرام کی مکمل تفصیل دستیاب ہے
  • ہیلپ لائن پر کال کر کے اپنے شہر کے قریبی پینل اسپتال کی تصدیق کریں
  • اسپتال جانے سے پہلے فہرست ضرور تازہ چیک کریں، کیونکہ پینل میں شامل اسپتال وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہتے ہیں

پینل اسپتال میں پہنچ کر داخلے کی کارروائی میں بعض اوقات BISP سروے سے متعلق معلومات بھی درکار ہو سکتی ہیں، کیونکہ عمومی اہلیت NADRA اور BISP رجسٹریشن کا طریقہ میں بیان کردہ سماجی و معاشی ڈیٹا سے جڑی ہوتی ہے۔

طبی عملہ مریض سے ملاقات کے دوران میڈیکل فارم دیکھتے ہوئے — ہیلتھ کارڈ کے پینل اسپتال میں داخلے کا عمل

علاج کی حد و کوریج — کیا شامل اور کیا خارج

سالانہ کوریج عام طور پر اس طرح تقسیم ہوتی ہے:

کیٹیگریسالانہ حد (تقریباً)
سیکنڈری کیئر60,000 روپے
پرائیوریٹی کیئر400,000 روپے
خصوصی/جان لیوا صورتحال10 لاکھ روپے تک

مکمل مفت علاج (کوئی شراکتی ادائیگی نہیں) ان صورتوں میں ملتا ہے: کینسر، ICU/CCU/NICU، ایمرجنسی اور تھیلیسیمیا۔ دیگر بیماریوں پر بعض اوقات 50/50 شراکتی ادائیگی کا اصول لاگو ہوتا ہے۔

کوریج میں شامل نہیں: او پی ڈی وزٹ، نارمل ڈیلیوری اور سیزیرین، کاسمیٹک سرجری، دانتوں کا علاج، عینک اور نشے کی لت کا علاج — یہ سب کارڈ کے دائرہ کار سے باہر ہیں، اس لیے علاج سے پہلے اسپتال کے فسیلیٹیشن آفیسر سے کوریج کی تصدیق ضرور کر لیں۔

یہ سالانہ حد فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ پورے خاندان (فیملی یونٹ) کے لیے مشترکہ ہوتی ہے — یعنی اگر خاندان کے ایک فرد کا بڑا علاج ہو جائے تو باقی افراد کے لیے بچی ہوئی رقم ہی دستیاب رہتی ہے۔ اسی لیے غیر ضروری یا معمولی طبی طریقہ کار کے لیے کارڈ استعمال کرنے سے گریز کریں تاکہ کسی جان لیوا صورتحال کے لیے کوریج محفوظ رہے۔

ڈاکٹر مریض سے صحت کے ریکارڈ پر گفتگو کرتے ہوئے — ہیلتھ کارڈ کی علاج کی حد و کوریج

اسپتال میں کارڈ استعمال کا عمل

پینل اسپتال پہنچنے کے بعد یہ مراحل اپنائیں:

  1. اسپتال میں "صحت سہولت پروگرام کاؤنٹر" یا Facilitation Desk تلاش کریں
  2. اپنا اصل شناختی کارڈ پیش کریں
  3. بائیومیٹرک (انگوٹھے کا نشان) تصدیق کرائیں
  4. تصدیق کامیاب ہونے پر ہاسپٹل فسیلیٹیشن آفیسر داخلے، علاج اور دستاویزات کے پورے عمل میں رہنمائی کرتا ہے
  5. علاج مکمل ہونے پر رقم کی کوئی نقد ادائیگی نہیں کرنی پڑتی — پورا عمل کیش لیس ہوتا ہے
نرس اسپتال کے وارڈ میں مریض کی دیکھ بھال کرتے ہوئے — ہیلتھ کارڈ سے داخل مریض علاج کا استعمال

عام مسائل — کوریج ختم، انکار

  • سالانہ کوریج ختم ہو جانا — اگر خاندان کی مقررہ حد ختم ہو جائے تو جان لیوا صورتحال میں علاج پھر بھی جاری رہتا ہے، مگر عام صورتوں میں اضافی رقم خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے
  • اسپتال کا کارڈ لینے سے انکار — اگر کوئی پینل اسپتال کارڈ قبول نہ کرے تو فوری طور پر پروگرام کی ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائیں
  • غلط طور پر او پی ڈی/غیر کور شدہ علاج کی رقم مانگنا — اسپتال میں داخلے سے پہلے ہی فسیلیٹیشن آفیسر سے تحریری طور پر کوریج کی تصدیق کر لیں
  • اہلیت میں اچانک تبدیلی — سالانہ ری-سروے کے باعث بعض خاندان اہلیت کھو سکتے ہیں، اس لیے علاج سے پہلے ہر بار 8500 پر دوبارہ چیک کرنا بہتر ہے

کسی بھی مسئلے کی صورت میں سب سے پہلے اسپتال کے فسیلیٹیشن آفیسر سے بات کریں، اور اگر معاملہ حل نہ ہو تو صوبائی پروگرام کی ہیلپ لائن پر باضابطہ شکایت درج کرائیں۔ اکثر مسائل غلط فہمی یا نامکمل معلومات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، جو بروقت رابطے سے آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔

اختتام

ہیلتھ کارڈ بنوانے اور استعمال کا طریقہ سمجھنا ہر پاکستانی خاندان کے لیے مفید ہے، کیونکہ یہ سہولت آپ کا شناختی کارڈ رکھتے ہی خودکار طور پر دستیاب ہو سکتی ہے۔ پہلے 8500 پر اہلیت چیک کریں، پینل اسپتال کی تازہ فہرست دیکھیں، کوریج کی حدود سمجھیں اور علاج سے پہلے فسیلیٹیشن آفیسر سے تمام تفصیل کی تصدیق کر لیں۔ دیگر سرکاری مالی سہاروں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے پنشن اور سرکاری الاؤنسز کا مکمل گائیڈ ضرور دیکھیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

ہیلتھ کارڈ پر کتنے کا علاج فری ہے؟

صحت سہولت پروگرام کے تحت عام طور پر ایک خاندان کو سالانہ 60,000 روپے تک سیکنڈری کیئر اور تقریباً 400,000 روپے تک پرائیوریٹی کیئر کی مفت سہولت ملتی ہے، بعض خصوصی صورتوں میں یہ حد 10 لاکھ روپے تک بھی جا سکتی ہے۔ کینسر، ICU/CCU/NICU، ایمرجنسی اور تھیلیسیمیا کا علاج مکمل مفت ہوتا ہے، جبکہ باقی بیماریوں پر بعض اوقات 50/50 شراکتی ادائیگی کا اصول لاگو ہوتا ہے۔

کارڈ کہاں چلتا ہے؟

ہیلتھ کارڈ پورے پاکستان میں پروگرام کے پینل میں شامل سرکاری اور نجی اسپتالوں میں چلتا ہے۔ پینل اسپتالوں کی فہرست پروگرام کی سرکاری ویب سائٹ یا ہیلپ لائن سے معلوم کی جا سکتی ہے، اور یہ فہرست وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے اسپتال جانے سے پہلے تازہ فہرست ضرور چیک کریں۔

اہلیت کیسے چیک کریں؟

اپنا شناختی کارڈ نمبر 8500 پر SMS کریں (خیبر پختونخوا میں 9780) — چند سیکنڈز میں جواب آ جائے گا کہ آپ کا خاندان اہل ہے یا نہیں۔ اگر اہل نہ ہوں تو NADRA کے پاس اپنے خاندانی ریکارڈ کی تازہ کاری کروائیں، کیونکہ اہلیت کا تعین بڑی حد تک NADRA کے ڈیٹا پر ہوتا ہے۔

ہیلتھ کارڈ پر کیا علاج شامل نہیں ہے؟

ہیلتھ کارڈ صرف داخل مریض (Indoor/IPD) علاج کے لیے ہے۔ او پی ڈی وزٹ، نارمل ڈیلیوری اور سیزیرین، کاسمیٹک سرجری، دانتوں کا علاج، عینک اور نشے کی لت کا علاج عام طور پر کوریج میں شامل نہیں ہوتا۔

اسپتال میں ہیلتھ کارڈ استعمال کیسے کریں؟

متعلقہ اسپتال میں "صحت سہولت پروگرام کاؤنٹر" یا Facilitation Desk تلاش کریں، اصل شناختی کارڈ دکھائیں، بائیومیٹرک تصدیق کرائیں — اس کے بعد ہاسپٹل فسیلیٹیشن آفیسر داخلے اور علاج کے پورے عمل میں رہنمائی کرتا ہے، اور علاج مکمل طور پر کیش لیس ہوتا ہے۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں