جانور ذبح کرنے کا طریقہ: اسلامی شرائط، دعا اور مکمل گائیڈ

زراعت
کراچی میں مسکراتا کسان اپنے پانی کے بھینسوں کے ساتھ کھڑا ہے — پاکستان میں مویشی پالنا اہم زرعی پیشہ ہے

جانور کو ذبح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ذابح مسلمان ہو، بسم اللہ اللہ اکبر پڑھے اور جانور کو قبلہ رخ لٹا کر تیز چھری سے حلق اور سینے کے درمیان ذبح کرے۔ حلقوم (سانس کی نالی)، مری (خوراک کی نالی) اور گردن کی دونوں خون کی رگیں کاٹنا ضروری ہیں — چار میں سے کم از کم تین رگیں کٹ جائیں تو جانور حلال ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں ہر سال عید الاضحی پر کروڑوں روپے کے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ گھر، گلی یا قصاب کی دکان — ہر جگہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ ذبح کا صحیح اسلامی طریقہ کیا ہے؟ غلط طریقے سے ذبح کرنا جانور کو حرام بنا سکتا ہے اور جانور پر غیرضروری تکلیف کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس گائیڈ میں مکمل شرعی طریقہ بیان کیا گیا ہے۔

کراچی میں مسکراتا کسان اپنے پانی کے بھینسوں کے ساتھ — پاکستان میں مویشی پالنا اہم زرعی پیشہ ہے

ذبح کیا ہے اور اس کی اہمیت

Wikipedia کے مطابق ذبیحہ اسلامی طریقہ ذبح کا نام ہے جس میں جانور کے حلق پر ایک تیز اور گہرا کٹ لگایا جاتا ہے تاکہ سانس کی نالی، خوراک کی نالی اور گردن کی رگیں کٹ جائیں اور خون مکمل طور پر جسم سے نکل جائے۔ یہ طریقہ اسلامی فقہ اور حلال غذائی قوانین کا بنیادی حصہ ہے۔

اسلام میں ذبح کے تین بڑے مقاصد ہیں:

  • خون جسم سے مکمل طور پر نکل جائے — جو گوشت کی صفائی اور طویل محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے
  • جانور کو کم از کم تکلیف ہو — تیز چھری اور صحیح جگہ پر کٹ درد کم کرتا ہے
  • اللہ کا نام لیا جائے — تاکہ یہ عمل محض خوراک نہیں بلکہ عبادت بن جائے
سندھ کے کانڈیارو میں فجر کے وقت بھیڑیں اور بکریاں پگڈنڈی عبور کر رہی ہیں — چھوٹے جانور ذبح عام طور پر آسان ہوتا ہے

ذبح کرنے والے کی شرائط

جامعہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کے مطابق ذبح کے حلال ہونے کے لیے ذابح میں یہ شرائط ضروری ہیں:

  1. مسلمان ہو — غیر مسلم کا ذبح کردہ جانور حلال نہیں؛ احتیاط مسلمان کا ذبح ہے
  2. عاقل ہو — پاگل یا مدہوش شخص کا ذبح درست نہیں
  3. اللہ کا نام لے — بسم اللہ پڑھنا فرض ہے؛ جان بوجھ کر چھوڑنا جانور کو حرام کر دیتا ہے
  4. صرف اللہ کا نام لے — غیر اللہ کا نام لینا قطعی حرام ہے
  5. نیت ذبح کی ہو — جانور کو حلال کرنا مقصود ہو، نہ کہ صرف قتل کرنا
  6. جانور زندہ ہو — مردہ جانور ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوتا

ذبح کا مکمل طریقہ

پاکستان میں مویشی منڈی میں آدمی سیاہ گائے کے ساتھ کھڑا ہے — ذبح سے پہلے جانور کا انتخاب اور تیاری ضروری ہے

ذبح کرنے کا شرعی اور صحیح طریقہ مرحلہ وار یہ ہے:

مرحلہ 1: چھری کی تیاری ذبح سے پہلے چھری کو خوب تیز کر لیں۔ جانور کے سامنے چھری تیز نہ کریں — یہ جانور کو خوف دیتا ہے اور سنت کے خلاف ہے۔

مرحلہ 2: جانور کو لٹانا

  • جانور کو قبلہ رخ لٹائیں — جانور کا منہ قبلے کی طرف ہو
  • چھوٹے جانور (بکری، بھیڑ) کو بائیں کروٹ لٹائیں، ذابح کا دایاں پاؤں جانور کی گردن کے قریب رکھے
  • جانور کو نرمی سے لٹائیں — گھسیٹنا یا زمین پر پٹخنا درست نہیں
  • ذبح سے پہلے جانور کو پانی پلائیں

مرحلہ 3: دعا اور ذبح لٹانے کے بعد بسم اللہ پڑھ کر تیز چھری سے حلق اور سینے کے درمیان ایک گہرا اور تیز کٹ لگائیں۔ ان چاروں چیزوں کا کٹنا ضروری ہے:

  1. حلقوم — سانس کی نالی (windpipe)
  2. مری — خوراک کی نالی (esophagus)
  3. دونوں ودجان — گردن کی خون کی رگیں (jugular veins)

مرحلہ 4: اہم احتیاط

  • گردن کو پورا الگ نہ کریں — چھری ریڑھ کی ہڈی کے مہروں تک نہ جانے دیں
  • ذبح کے بعد جانور کو ٹھنڈا ہونے دیں — خون مکمل نکل جائے
  • جانور کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے کھال اتارنا مکروہ ہے

ذبح کی دعائیں

ہاتھوں میں سفید بھیڑ کو تھامے ہوئے — قربانی کا جانور رکھنا اور ذبح کرنا عبادت کا حصہ ہے

ذبح سے پہلے (قربانی کے لیے):

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ — اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ

(اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے)

ذبح کے وقت:

بِسْمِ اللهِ، اللهُ أَكْبَرُ

(اللہ کے نام سے شروع، اللہ سب سے بڑا ہے)

ذبح کے بعد:

اللَّهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ وَخَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام

(اے اللہ! اسے میری طرف سے قبول فرما جیسے تو نے اپنے محبوب محمدﷺ اور اپنے خلیل ابراہیمؑ سے قبول فرمایا)

جانور کے ساتھ رحم اور مروت

MM News کے مطابق قربانی محض جانور کو ذبح کرنے کا نام نہیں — یہ تقویٰ، اخلاص اور اللہ کے حکم کے سامنے مکمل سر تسلیم خم کرنے کی علامت ہے۔ اسلام نے جانوروں کے حقوق کے بارے میں سخت ہدایات دی ہیں:

  • ایک جانور کو دوسرے کے سامنے ذبح نہ کریں — یہ جانور کو خوف اور تکلیف دیتا ہے
  • ذبح سے پہلے پانی پلائیں — بھوکے پیاسے جانور کو ذبح کرنا درست نہیں
  • گھسیٹ کر نہ لے جائیں — جانور کو آرام سے لے جائیں
  • چھری جانور کے سامنے تیز نہ کریں — جانور کے سامنے چھری پوشیدہ رکھیں
  • جانور کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے کھال نہ اتاریں — یہ تکلیف اور ظلم ہے

مختلف جانوروں کا ذبح

بکری اور بھیڑ: بائیں کروٹ لٹائیں، قبلہ رخ۔ ذابح اپنا دایاں گھٹنا جانور کی گردن کے قریب رکھے تاکہ جانور حرکت نہ کرے۔ ذبح میں چاروں رگیں کاٹیں۔ یہ طریقہ سب سے آسان اور عام ہے۔

گائے اور بھینس: گائے کو مضبوطی سے قابو کریں — اسے بائیں کروٹ لٹائیں اور پاؤں باندھیں۔ گائے کے فارم سے لایا ہوا جانور ذبح سے پہلے کچھ دن آرام دہ ماحول میں رکھیں تاکہ وہ پرسکون ہو جائے — دباؤ میں ذبح شدہ جانور کا گوشت سخت ہو جاتا ہے۔

اونٹ (نحر): اونٹ کا طریقہ ذبح نہیں بلکہ نحر ہے۔ اونٹ کو گھٹنوں کے بل بٹھائیں اور اگلے پاؤں باندھیں، پھر بسم اللہ پڑھ کر سینے اور گردن کے جوڑ (وہنہ) پر نیزہ یا لمبی چھری سے وار کریں۔ اونٹ کو لٹانا ضروری نہیں۔

ذبح کے بعد کی باتیں

مارکیٹ میں قصاب تازہ گوشت کلہاڑی سے کاٹ رہا ہے — ذبح کے بعد گوشت کی صحیح تقسیم بھی اہم ہے

کھال: قربانی کی کھال قصاب کو معاوضے میں دینا جائز نہیں۔ کھال صدقہ کریں، مدرسے کو دیں یا خود استعمال کریں — کھال بیچ کر رقم بھی صدقہ کی جا سکتی ہے۔

گوشت کی تقسیم (قربانی کی صورت میں): مستحب تقسیم یہ ہے:

  • ایک تہائی اپنے گھر کے لیے
  • ایک تہائی رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے
  • ایک تہائی غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے

یہ تقسیم واجب نہیں، مستحب ہے — مگر غربا کا حق نہ بھولیں۔

آلات کی صفائی: ذبح کے بعد چھری کو گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح صاف کریں۔ پولٹری فارم میں چھریاں جراثیم سے پاک (disinfect) کرنا لازمی ہوتا ہے — گھریلو ذبح میں بھی صفائی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔


جانور ذبح کرنا ایک عبادت ہے — ایک ایسا عمل جس میں اللہ کا نام، صحیح نیت، جانور پر رحم اور شرعی طریقہ چاروں ایک ساتھ ہونے چاہئیں۔ بسم اللہ کا ورد، تیز چھری، قبلہ رخ، اور چاروں رگیں کاٹنا — یہ چار اصول یاد رکھیں تو نہ قربانی رد ہوگی اور نہ جانور حرام ہوگا۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

جانور ذبح کرنے کے لیے کون سی شرائط ضروری ہیں؟

ذبح کرنے والا مسلمان اور عاقل ہو، بسم اللہ پڑھے، صرف اللہ کا نام لے، جانور زندہ ہو اور نیت ذبح کی ہو۔ جان بوجھ کر بسم اللہ چھوڑنا یا غیر اللہ کا نام لینا جانور کو حرام کر دیتا ہے۔

ذبح کرتے وقت کون سی دعا پڑھیں؟

ذبح کے وقت "بِسْمِ اللهِ، اللهُ أَكْبَرُ" پڑھنا ضروری ہے۔ قربانی کے لیے پہلے "اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ" پڑھیں اور بعد میں "اللَّهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي..." پڑھیں۔

کون سی رگیں کاٹنا ضروری ہیں؟

ذبح میں چار چیزیں کاٹنا ضروری ہیں: حلقوم (سانس کی نالی)، مری (خوراک کی نالی) اور دونوں ودجان (گردن کی خون کی رگیں)۔ اگر چاروں میں سے کم از کم تین کٹ جائیں تو جانور حلال ہو جاتا ہے۔

کیا ذبح کرنے والا غیر مسلم ہو سکتا ہے؟

احناف کے نزدیک ذابح کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ غیر مسلم کا ذبح کردہ جانور حلال نہیں۔ البتہ اہل کتاب (یہودی و عیسائی) کے ذبح کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے؛ احتیاط یہ ہے کہ مسلمان ہی ذبح کرے۔

اونٹ کو کیسے ذبح کیا جاتا ہے؟

اونٹ کا طریقہ نحر ہے نہ کہ ذبح۔ اونٹ کو گھٹنوں پر بٹھائیں، پاؤں باندھیں، پھر بسم اللہ پڑھ کر سینے اور گردن کے جوڑ پر چھری ماریں۔ اونٹ کو لٹانا ضروری نہیں۔

قربانی کی کھال کسے دیں؟

قربانی کی کھال قصاب کو معاوضے میں دینا جائز نہیں۔ کھال یا تو خود استعمال کریں یا کسی مستحق کو صدقہ کریں۔ مدارس اور دینی ادارے بھی کھال وصول کرتے ہیں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔