برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ — یونین کونسل اور آن لائن 2026

سرکاری دستاویزات
برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ — ماں اور بچے کا ہاتھ

برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ یہ ہے: بچے کی پیدائش کے 60 دنوں کے اندر متعلقہ یونین کونسل میں پیدائش کا اندراج کروائیں، مطلوبہ دستاویزات جمع کروائیں اور فیس ادا کریں۔ یونین کونسل 3-5 دن میں سرٹیفکیٹ جاری کر دیتی ہے۔ اس کے بعد نادرا سے بی فارم (CRC) بنوایا جاتا ہے۔ پنجاب، سندھ (کچھ اضلاع) اور اسلام آباد میں یہ آن لائن پاک آئی ڈی ایپ سے بھی بنوایا جا سکتا ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ — بچے کا اندراج

برتھ سرٹیفکیٹ کہاں بنتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

یہ بچے کی پیدائش کا سرکاری قانونی ثبوت ہے جو یونین کونسل، میونسپل کمیٹی یا کینٹونمنٹ بورڈ جاری کرتی ہے۔ یہ دستاویز بچے کا نام، تاریخ پیدائش، جائے پیدائش اور والدین کی معلومات ریکارڈ کرتی ہے۔ اس کے بغیر بی فارم، پاسپورٹ، اسکول داخلہ اور وراثت جیسے تمام قانونی کام ممکن نہیں۔ 2026 میں سرکاری اداروں نے پیدائش کے سرٹیفکیٹ کو ہر قانونی مرحلے پر لازمی قرار دے دیا ہے۔

یہ دستاویز درج ذیل کاموں کے لیے ضروری ہے:

  • نادرا بی فارم (CRC) اور قومی شناختی کارڈ کے لیے
  • اسکول اور کالج میں داخلے کے لیے
  • پاسپورٹ اور ویزا کی درخواست کے لیے
  • وراثت اور جائیداد کے دعووں کے لیے
  • بیرونِ ملک ملازمت اور امیگریشن کے لیے

پاکستان میں شناختی دستاویزات کے نظام میں پیدائش کی دستاویز اولین ہے۔ اس کے بغیر آگے کی تمام شناختی دستاویزات حاصل کرنا ناممکن ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ کے لیے درکار دستاویزات

اس دستاویز کے حصول کے لیے درج ذیل کاغذات درکار ہیں:

دستاویزتفصیل
والد کا شناختی کارڈاصل اور کاپی
والدہ کا شناختی کارڈاصل اور کاپی
ہسپتال کی پیدائش سلپیا ڈسچارج سرٹیفکیٹ
نکاح نامہوالدین کی شادی کا سرٹیفکیٹ
یونین کونسل کا فارمفارم-A مفت دستیاب
حلف نامہ (تاخیر کی صورت)اسٹامپ پیپر پر تصدیق شدہ
گواہان کے شناختی کارڈ (تاخیر کی صورت)دو گواہان

نوٹ: اگر ہسپتال کی سلپ نہ ہو تو حلف نامہ بطور متبادل قبول کیا جاتا ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ کے لیے درکار دستاویزات — آفس ڈیسک پر کاغذات

یونین کونسل سے برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ

یونین کونسل سے یہ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ مرحلہ وار درج ذیل ہے:

  1. یونین کونسل دفتر جائیں — جہاں بچہ پیدا ہوا اس علاقے کی یونین کونسل میں جائیں
  2. فارم حاصل کریں — یونین کونسل سیکرٹری سے پیدائش کا اندراج فارم (فارم-A) لیں
  3. فارم پُر کریں — بچے کا نام، تاریخ پیدائش، والدین کی معلومات درست لکھیں
  4. دستاویزات منسلک کریں — اوپر دی گئی تمام دستاویزات ساتھ لگائیں
  5. فیس ادا کریں — مقررہ فیس یونین کونسل سیکرٹری کو جمع کروائیں
  6. تصدیق اور اندراج — یونین کونسل معلومات کی تصدیق کرتی ہے اور رجسٹر میں اندراج کرتی ہے
  7. سرٹیفکیٹ حاصل کریں — 3-5 دن میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے

پیدائش کے 60 دنوں کے اندر اندراج لازمی ہے۔ اس کے بعد تاخیر سے اندراج کی صورت میں اضافی دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہوتا ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ آن لائن بنوانے کا طریقہ

2026 میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ آن لائن بنوانا نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ سہولت پنجاب کے تمام اضلاع، سندھ کے کئی شہروں (کراچی، لاڑکانہ، حیدرآباد) اور اسلام آباد میں دستیاب ہے۔

پاک آئی ڈی ایپ سے آن لائن درخواست کے مراحل:

  1. پاک آئی ڈی ایپ گوگل پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کریں
  2. اپنے شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر سے اکاؤنٹ بنائیں
  3. "پروونشل سول رجسٹریشن سروسز" میں اپنا صوبہ منتخب کریں
  4. "برتھ" کے آپشن پر کلک کریں
  5. بچے کی تفصیلات — نام، تاریخ پیدائش، جنس، جائے پیدائش درج کریں
  6. درکار دستاویزات (والدین کے شناختی کارڈ، ہسپتال سلپ) اپ لوڈ کریں
  7. فیس کیلکولیٹ کریں اور آن لائن ادائیگی کریں
  8. درخواست جمع کرائیں اور ٹریکنگ آئی ڈی حاصل کریں

درخواست منظور ہونے پر یہ دستاویز ایپ کے آئی ڈی والٹ میں ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہو جاتی ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ آن لائن درخواست — ہاتھ سے فارم پُر کرتے ہوئے

برتھ سرٹیفکیٹ فیس 2026

فیس اور دورانیہ درج ذیل ہے:

سروس کی قسمفیس (روپے)دورانیہ
نارمل اندراجمفت + 100 (سرٹیفکیٹ)3-5 دن
تاخیری اندراج (61 دن سے 7 سال)100 + اضافی فیس7 دن
7 سال سے زائد تاخیر100 + عدالتی اخراجات20 دن
نادرا بی فارم نارمل507 دن
نادرا بی فارم ایگزیکٹو5001 دن

پیدائش کا اندراج خود مفت ہے، صرف کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر 100 روپے فیس لی جاتی ہے۔

نادرا بی فارم (CRC) بنوانے کا طریقہ

یونین کونسل سے پیدائش کا سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد بچے کا نادرا بی فارم (چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ) بنوانا ضروری ہے۔ بی فارم ہی اصل قومی شناختی دستاویز ہے جو بچے کو نادرا کے ڈیٹا بیس میں رجسٹر کرتی ہے۔

نادرا بی فارم کے لیے درکار دستاویزات:

  • یونین کونسل کا پیدائشی سرٹیفکیٹ
  • والدین کے اصل شناختی کارڈ
  • بچے کی تصویر (3 سال سے زیادہ عمر کے لیے)
  • فنگر پرنٹس (10 سال سے زیادہ عمر کے لیے)

نادرا سینٹر سے بی فارم بنوانے کا طریقہ:

  1. قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر جائیں
  2. بی فارم کے لیے ٹوکن حاصل کریں
  3. تمام دستاویزات جمع کروائیں
  4. والدین کی بائیومیٹرک تصدیق کروائیں
  5. فیس ادا کریں اور رسید حاصل کریں
  6. مقررہ مدت میں بی فارم حاصل کریں

مزید معلومات کے لیے شناختی دستاویزات کا مکمل گائیڈ پڑھیں۔

برتھ سرٹیفکیٹ اور نادرا بی فارم کے لیے دستاویزات پر دستخط — درخواست کا عمل

تاخیر سے برتھ سرٹیفکیٹ بنوانا

اگر بچے کی پیدائش کے 60 دن بعد یہ سرٹیفکیٹ بنوایا جائے تو اسے تاخیری اندراج کہتے ہیں۔ اس صورت میں برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے:

  • 61 دن سے 7 سال: اضافی حلف نامہ اور دو گواہان کے شناختی کارڈ درکار ہیں۔ دورانیہ 7 دن۔
  • 7 سال سے زائد: عدالتی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے میڈیکل رپورٹ بھی مانگی جا سکتی ہے۔

بڑی عمر کے افراد کے لیے پیدائش کی دستاویز بنوانے کے لیے پرانے اسکول ریکارڈ، ویکسینیشن کارڈ یا والدین کے شناختی کارڈ بطور ثبوت پیش کرنے ہوتے ہیں۔

پیدائش کے سرٹیفکیٹ میں غلطی کی تصحیح

اس دستاویز میں نام، تاریخ پیدائش یا والدین کے نام کی غلطی عام ہے۔ اسے درست کرانے کے لیے:

  1. اسی یونین کونسل میں جائیں جہاں سے برتھ سرٹیفکیٹ جاری ہوا
  2. تحریری درخواست دیں اور غلطی کی وضاحت کریں
  3. درست معلومات کے ثبوت فراہم کریں (والدین کے شناختی کارڈ، ہسپتال ریکارڈ)
  4. تصحیح کے بعد نیا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے

نادرا بی فارم میں غلطی کی تصحیح کے لیے کسی بھی نادرا سینٹر میں درخواست دی جا سکتی ہے۔ تصحیح میں عموماً 5-10 دن لگتے ہیں۔

بیرونِ ملک استعمال کے لیے پیدائش کا سرٹیفکیٹ

بیرونِ ملک تعلیم، ملازمت یا امیگریشن کے لیے اس سرٹیفکیٹ کی تصدیق (اٹیسٹیشن) ضروری ہے۔ اس کے لیے:

  1. یونین کونسل سے تصدیق
  2. وزارت خارجہ (MOFA) سے تصدیق — مزید معلومات کے لیے MOFA اٹیسٹیشن گائیڈ دیکھیں
  3. متعلقہ ملک کے سفارتخانے سے تصدیق

بغیر تصدیق شدہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بیرونِ ملک ویزا، ورک پرمٹ اور امیگریشن کی درخواستیں مسترد ہو سکتی ہیں۔

برتھ سرٹیفکیٹ — مفید لنکس

برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ آسان ہے اگر آپ بروقت اور درست طریقے سے عمل کریں۔ پیدائش کے فوراً بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ بنوائیں تاکہ بعد میں پیش آنے والی مشکلات سے بچ سکیں۔ یہ آپ کے بچے کی قانونی شناخت کی بنیاد ہے — اسے وقت پر اور درست بنوائیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

برتھ سرٹیفکیٹ کہاں بنتا ہے؟

برتھ سرٹیفکیٹ یونین کونسل، میونسپل کمیٹی یا کینٹونمنٹ بورڈ سے بنتا ہے۔ یہ بچے کی پیدائش کا سرکاری ثبوت ہوتا ہے جس کے بعد نادرا سے بی فارم (CRC) بنوایا جا سکتا ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ آن لائن کیسے بنوائیں؟

برتھ سرٹیفکیٹ آن لائن بنوانے کے لیے پاک آئی ڈی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، اکاؤنٹ بنائیں، برتھ رجسٹریشن کا آپشن منتخب کریں، بچے کی تفصیلات درج کریں، دستاویزات اپ لوڈ کریں اور فیس ادا کریں۔ یہ سہولت پنجاب، سندھ کے کئی شہروں اور اسلام آباد میں دستیاب ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ کی فیس کتنی ہے؟

برتھ سرٹیفکیٹ کی فیس 100 سے 200 روپے تک ہے۔ پیدائش کا اندراج مفت ہے، صرف سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر یہ فیس لی جاتی ہے۔ نادرا بی فارم کی فیس نارمل کے لیے 50 روپے اور ایگزیکٹو کے لیے 500 روپے ہے۔

برتھ سرٹیفکیٹ کے لیے کیا دستاویزات چاہئیں؟

برتھ سرٹیفکیٹ کے لیے والدین کے شناختی کارڈ، ہسپتال کی پیدائش کی سلپ، نکاح نامہ اور یونین کونسل کا فارم درکار ہے۔ تاخیر سے اندراج کی صورت میں حلف نامہ اور گواہان بھی درکار ہو سکتے ہیں۔

برتھ سرٹیفکیٹ اور بی فارم میں کیا فرق ہے؟

برتھ سرٹیفکیٹ یونین کونسل جاری کرتی ہے جبکہ بی فارم (CRC) نادرا جاری کرتا ہے۔ برتھ سرٹیفکیٹ مقامی سطح پر پیدائش کا ریکارڈ ہے جبکہ بی فارم قومی شناختی ڈیٹا بیس میں بچے کی شناخت کو رجسٹر کرتا ہے۔

تاخیر سے برتھ سرٹیفکیٹ کیسے بنے؟

اگر پیدائش کے 60 دن بعد اندراج کروایا جائے تو اضافی دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہوتا ہے۔ 7 سال سے زیادہ تاخیر کی صورت میں عدالتی منظوری بھی ضروری ہو سکتی ہے۔

بڑی عمر کا برتھ سرٹیفکیٹ کیسے بنے؟

بڑی عمر کا برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے یونین کونسل میں حلف نامہ، گواہان کے بیانات اور پرانے اسکول یا ویکسینیشن ریکارڈ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے میڈیکل رپورٹ بھی درکار ہوتی ہے۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں