تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ — بلا سود قرض کے 4 ذرائع، شرائط اور واپسی

تعلیمی دستاویزات و داخلے
لائبریری میں کتابوں اور لیپ ٹاپ کے ساتھ پڑھتی طالبہ — تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ

تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ داخلہ ملتے ہی اپنی یونیورسٹی کے فنانشل ایڈ دفتر سے رابطہ کریں، نیشنل بینک کی اسٹوڈنٹ لون اسکیم یا احسان ٹرسٹ جیسے بلا سود ذرائع کا فارم بھریں، آمدنی کے ثبوت اور ضامن کے کاغذات لگائیں، انٹرویو دیں اور منظوری پر فیس براہِ راست یونیورسٹی کو ادا ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں بہت سے ذہین بچے داخلہ تو لے لیتے ہیں مگر پہلے سمسٹر کی فیس پر رک جاتے ہیں۔ وظیفہ نہ ملے تو اگلا راستہ قرض ہے، مگر سود والا بینک قرض طالب علم کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ اس رہنمائی میں تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ صرف ان راستوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے جو طلبہ کے لیے بنائے گئے ہیں، ساتھ ان کی اصل شرائط اور واپسی کا حساب۔

یونیورسٹی کے دروازے پر کاغذات لیے کھڑا طالب علم فیس کے لیے قرض کی تیاری میں

طلبہ کے لیے قرض کے 4 ذرائع کا موازنہ

ہر ذریعہ الگ طالب علم کے لیے ہے، اس لیے تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ بھی ہر جگہ تھوڑا مختلف ہے۔ پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کس خانے میں آتے ہیں:

ذریعہسودکس کے لیےدرخواست کہاں
نیشنل بینک اسٹوڈنٹ لون اسکیمبلا سود (حکومتی)سرکاری یونیورسٹی، 70% نمبر، منظور شدہ مضامیننامزد NBP برانچ
احسان ٹرسٹ قرضِ حسنہبلا سودپارٹنر یونیورسٹیوں اور پروفیشنل اداروں کے ضرورت مند طلبہاپنی یونیورسٹی کے ذریعے
یونیورسٹی کا اپنا قرض فنڈعموماً بلا سوداسی یونیورسٹی کے طلبہفنانشل ایڈ دفتر
بینک کا ذاتی قرضسود / مارک اپوالدین جن کی باقاعدہ تنخواہ ہوکوئی بھی بینک

اخوت جیسے ادارے بھی کچھ شہروں میں تعلیم کے لیے چھوٹے بلا سود قرض دیتے ہیں، مگر ان کی موجودہ شرائط اور رقم قریبی برانچ سے ہی تصدیق کریں۔ قرض سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ ایچ ای سی نیڈ بیسڈ اسکالرشپ ملتی ہے یا نہیں، کیونکہ وظیفہ واپس نہیں کرنا پڑتا۔

یونیورسٹی کی کلاس میں اسائنمنٹ پر کام کرتے طلبہ

نیشنل بینک اسٹوڈنٹ لون اسکیم: کون اہل ہے؟

یہ اسکیم حکومتِ پاکستان نے 2001-02 کے بجٹ میں شروع کی اور اسے نیشنل بینک آف پاکستان چلاتا ہے۔ بینک کی شائع کردہ تفصیلی شرائط یہ ہیں:

  • داخلہ عام میرٹ پر کسی منظور شدہ سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں ہوا ہو
  • عمر کی حد: گریجویشن کے لیے 21 سال، ماسٹرز کے لیے 31 سال، پی ایچ ڈی کے لیے 36 سال سے زیادہ نہ ہو
  • آخری سرکاری امتحان میں کم از کم 70 فیصد نمبر
  • مالی مجبوری کی وجہ سے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو
  • مضمون منظور شدہ فہرست میں ہو: انجینئرنگ، الیکٹرانکس، میڈیسن، زراعت، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی، کمپیوٹر سائنس، معاشیات و شماریات، بزنس مینجمنٹ، کامرس اور شریعہ (LLB/LLM)

قرض میں کیا ملتا ہے: پوری مدتِ تعلیم کی مقررہ فیس اور ہاسٹل کے اخراجات (کھانا شامل نہیں) براہِ راست یونیورسٹی کو جاتے ہیں، جبکہ کتابوں کی رقم طالب علم کو ملتی ہے۔

ایک ضروری انتباہ: بینک کی ویب سائٹ پر آخری دستیاب نوٹس میں درخواست کی تاریخ 29 جولائی 2022 درج ہے اور کامیاب امیدواروں کی آخری فہرست 2021-22 کی ہے۔ یعنی اسکیم کا موجودہ سال میں کھلنا یقینی نہیں۔ داخلے کے موسم میں اخبار کا اشتہار اور اپنی یونیورسٹی کی نامزد NBP برانچ ضرور چیک کریں۔ بینک خود لکھتا ہے کہ قرض "فنڈ کی دستیابی سے مشروط" ہے۔

لیکچر ہال میں نوٹس لیتی طالبہ جو قرض کی شرائط پر پوری اترتی ہے

تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ: درخواست سے منظوری تک 6 قدم

  1. داخلہ پکا کریں: تقریباً ہر اسکیم میں پہلے داخلہ ضروری ہے۔ داخلے کا خط یا فیس واؤچر سنبھال کر رکھیں۔
  2. فنانشل ایڈ دفتر جائیں: یہاں سے پتا چلے گا کہ آپ کی یونیورسٹی کس ادارے کی پارٹنر ہے اور اس سال کون سی اسکیم کھلی ہے۔
  3. فارم حاصل کریں: NBP اسکیم کا فارم ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ ہوتا ہے اور اس کے دو سیٹ جمع کرانے ہوتے ہیں۔ احسان ٹرسٹ کی درخواست صرف یونیورسٹی کے ذریعے جاتی ہے۔
  4. کاغذات لگائیں: نیچے دی گئی فہرست کے مطابق۔ نامکمل فارم بینک قبول نہیں کرتا۔
  5. انٹرویو اور تصدیق: ادارہ گھر کی آمدنی اور ضرورت جانچنے کے لیے انٹرویو کرتا ہے۔ سچ بتائیں، غلط بیانی پکڑی جائے تو درخواست ختم ہو جاتی ہے۔
  6. منظوری اور ادائیگی: منظوری کے بعد رقم آپ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں جاتی ہے۔ قرض کا معاہدہ غور سے پڑھ کر دستخط کریں۔
قرض کی درخواست کے کاغذات پر مشیر کے ساتھ بات چیت — تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ

احسان ٹرسٹ کا قرضِ حسنہ یونیورسٹی کے ذریعے کیوں ملتا ہے؟

احسان ٹرسٹ پاکستان کی یونیورسٹیوں اور پروفیشنل اداروں (جیسے ACCA، ICAP) کے ضرورت مند طلبہ کو بلا سود قرض دیتا ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق:

  • طالب علم براہِ راست ٹرسٹ کو درخواست نہیں دیتا، بلکہ اپنی یونیورسٹی کے فنانشل ایڈ دفتر کے ذریعے
  • فیصلہ "ضرورت اور میرٹ" دونوں پر ہوتا ہے، اور صرف پاکستانی شہری اہل ہیں
  • درخواست پر کوئی پروسیسنگ فیس نہیں
  • منظوری پر رقم براہِ راست یونیورسٹی کو جاتی ہے
  • دورانِ تعلیم ہر ماہ ایک چھوٹی "طے شدہ" قسط دینی ہوتی ہے، اور ڈگری کے بعد باقی رقم 3 سے 5 سال میں واپس کرنی ہوتی ہے
  • قسط رکنے پر اگلی رقم روک دی جاتی ہے

پارٹنر اداروں میں COMSATS، IBA، LUMS، FAST (NUCES) اور بحریہ یونیورسٹی جیسے نام شامل ہیں، مگر فہرست بدلتی رہتی ہے۔ اگر آپ ابھی یونیورسٹی چن رہے ہیں تو یونیورسٹی میں اپلائی کرتے وقت فنانشل ایڈ کی سہولت کو بھی ترجیح میں رکھیں۔

کلاس روم میں اکٹھے پڑھتے یونیورسٹی کے طلبہ

ضامن اور کاغذات: فارم کے ساتھ کیا لگے گا

ہر ادارے کی فہرست تھوڑی مختلف ہے، مگر عام طور پر یہ چیزیں مانگی جاتی ہیں:

  • طالب علم کا شناختی کارڈ یا ب فارم کی کاپی
  • والد یا سرپرست کا شناختی کارڈ
  • میٹرک، انٹر اور آخری امتحان کی مارک شیٹس
  • داخلے کا خط اور فیس کا شیڈول
  • والدین کی تنخواہ کی سلپ یا آمدنی کا حلف نامہ
  • بجلی اور گیس کا تازہ بل (گھر کی حالت جانچنے کے لیے)
  • تازہ تصاویر
  • ضامن کا شناختی کارڈ اور اس کی آمدنی یا ملازمت کا ثبوت

ضامن کون بن سکتا ہے؟ عموماً کوئی ایسا شخص جس کی مستقل آمدنی ہو، جیسے سرکاری ملازم یا اپنا کاروبار رکھنے والا رشتہ دار۔ ضامن پر قانونی ذمہ داری آتی ہے کہ اگر آپ قسط نہ دیں تو وہ دے گا، اس لیے اسے یہ بات کھل کر سمجھائیں۔ کچھ اداروں میں ڈومیسائل بھی مانگا جاتا ہے؛ نہ ہو تو ڈومیسائل بنوانے کا طریقہ دیکھ لیں۔

میز پر کیلکولیٹر اور کاغذات کے ساتھ قرض کے فارم کی تیاری

قسط کتنی بنے گی؟ قرض لینے سے پہلے یہ حساب کریں

بلا سود قرض میں حساب سیدھا ہے: کل رقم کو قسطوں کی تعداد پر تقسیم کریں۔ مثال کے طور پر اگر چار سال میں فیس اور ہاسٹل ملا کر 4 لاکھ روپے لیے اور واپسی 10 سال (120 ماہ) میں ہو تو قسط تقریباً 3,333 روپے ماہانہ بنے گی۔ یہی رقم 5 سال میں لوٹانی ہو تو تقریباً 6,667 روپے۔

پہلی نوکری کی متوقع تنخواہ کا اندازہ لگائیں اور دیکھیں کہ قسط اس کا کتنا حصہ ہوگی۔ ایک عام اصول یہ ہے کہ قسط تنخواہ کے 15 سے 20 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔

قرض کی درخواست رد کیوں ہوتی ہے اور اگلا قدم کیا ہو

  • نمبر کم ہیں: NBP کی 70 فیصد شرط پوری نہیں ہوتی تو احسان ٹرسٹ یا یونیورسٹی فنڈ آزمائیں
  • پرائیویٹ ادارہ: NBP اسکیم صرف منظور شدہ سرکاری اداروں کے لیے ہے
  • مضمون فہرست میں نہیں: مثلاً آرٹس کے کئی مضامین NBP کی فہرست میں نہیں
  • عمر کی حد گزر گئی: وقفے کے بعد داخلے والوں کے ساتھ یہ اکثر ہوتا ہے
  • آمدنی کے کاغذ ادھورے: غیر رسمی آمدنی ہو تو حلف نامہ اور یونین کونسل کی تصدیق ساتھ لگائیں
  • تاریخ گزر گئی: NBP اسکیم میں نامزد برانچ مقررہ تاریخ کے بعد فارم نہیں لیتی
پین اور کیلکولیٹر سے قرض کی قسطوں کا حساب لگاتے ہاتھ

بینک کا پرسنل لون فیس کے لیے آخری آپشن کیوں ہو؟

پاکستان میں زیادہ تر کمرشل بینک طالب علم کو اس کے نام پر الگ تعلیمی قرض نہیں دیتے، کیونکہ اس کی اپنی آمدنی نہیں ہوتی۔ عملاً یہ قرض والدین اپنی تنخواہ کی بنیاد پر پرسنل لون کی صورت لیتے ہیں، جس پر KIBOR سے جڑا مارک اپ لگتا ہے اور قسط فوراً شروع ہو جاتی ہے۔ یوں چار سال کی فیس کا خرچ کافی بڑھ جاتا ہے۔

اگر یہ راستہ اختیار کرنا ہی پڑے تو کم از کم تین بینکوں سے کل لاگت (Total Cost) تحریری طور پر لیں اور اسلامی بینکوں کے متبادل بھی دیکھیں۔ عام قرض کے فرق اور احتیاط پر تفصیل قرض لینے کا طریقہ میں موجود ہے۔ موجودہ شرح سود ہر بینک سے براہِ راست معلوم کریں، کیونکہ یہ بدلتی رہتی ہے۔

مالی مشیر کے ساتھ قرض کے کاغذات پر بات کرتے والدین

فیس کا بندوبست فنانشل ایڈ دفتر سے شروع کریں، بینک سے نہیں

تعلیمی قرض حاصل کرنے کا طریقہ ایک ترتیب مانگتا ہے: سب سے پہلے وظیفہ، پھر بلا سود قرض اور سب سے آخر میں بینک کا پرسنل لون۔ داخلے کے پہلے ہفتے میں ہی یونیورسٹی کے فنانشل ایڈ دفتر جائیں، کیونکہ احسان ٹرسٹ اور زیادہ تر یونیورسٹی فنڈز کا راستہ وہیں سے کھلتا ہے۔ NBP اسکیم کا حالیہ اعلان نظر نہیں آ رہا، اس لیے اس پر انحصار سے پہلے برانچ سے تصدیق کریں۔ کاغذات اور ضامن پہلے سے تیار ہوں اور قسط کا حساب پہلی تنخواہ کے مطابق ہو تو قرض بوجھ نہیں بنتا، تعلیم مکمل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

لائبریری میں سکون سے کتابیں پڑھتے طلبہ جن کی فیس کا بندوبست ہو چکا

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا پاکستان میں طلبہ کو بغیر سود کے قرض ملتا ہے؟

جی ہاں۔ نیشنل بینک آف پاکستان کی اسٹوڈنٹ لون اسکیم حکومت کی طرف سے بلا سود ہے، احسان ٹرسٹ اپنی پارٹنر یونیورسٹیوں کے طلبہ کو قرضِ حسنہ دیتا ہے، اور کئی یونیورسٹیوں کے فنانشل ایڈ دفتر بھی بلا سود قرض دیتے ہیں۔ ہر اسکیم میں فنڈ محدود ہوتے ہیں اس لیے ہر سال کا اشتہار ضرور دیکھیں۔

نیشنل بینک اسٹوڈنٹ لون کے لیے کتنے نمبر چاہئیں؟

نیشنل بینک کی شائع کردہ شرائط کے مطابق آخری سرکاری امتحان میں کم از کم 70 فیصد نمبر، سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں میرٹ پر داخلہ اور منظور شدہ مضامین (انجینئرنگ، میڈیسن، کمپیوٹر سائنس، بزنس، کامرس وغیرہ) میں سے کوئی ایک ہونا ضروری ہے۔

تعلیمی قرض کی واپسی کب شروع ہوتی ہے؟

نیشنل بینک اسکیم میں واپسی نوکری ملنے کے چھ ماہ بعد یا تعلیم مکمل ہونے کے ایک سال بعد (جو پہلے ہو) ماہانہ قسطوں میں شروع ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال ہے۔ احسان ٹرسٹ میں دورانِ تعلیم ہی ایک چھوٹی طے شدہ قسط شروع ہو جاتی ہے۔

کیا پرائیویٹ یونیورسٹی کے طالب علم کو تعلیمی قرض مل سکتا ہے؟

نیشنل بینک اسکیم صرف منظور شدہ سرکاری اداروں کے لیے ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹی کے طلبہ اپنی یونیورسٹی کے فنانشل ایڈ دفتر سے پوچھیں کہ کیا وہ احسان ٹرسٹ کی پارٹنر ہے یا ان کا اپنا قرضِ حسنہ فنڈ ہے۔

کیا بیرونِ ملک تعلیم کے لیے یہ قرض ملتا ہے؟

نیشنل بینک اسکیم صرف پاکستان کے اندر تعلیم کے لیے ہے اور احسان ٹرسٹ بھی اپنی ویب سائٹ پر کہتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے قرض نہیں دیتا۔ باہر پڑھنے کے لیے عموماً اسکالرشپ ہی بہتر راستہ ہے۔

قرض کی قسط نہ دی تو کیا ہوگا؟

قسط رکنے پر ضامن سے رابطہ کیا جاتا ہے اور آپ کا ریکارڈ خراب ہو سکتا ہے۔ احسان ٹرسٹ کے مطابق قسط نہ دینے پر اگلے سمسٹر کی رقم روک دی جاتی ہے۔ مشکل ہو تو خاموش رہنے کے بجائے ادارے سے بات کر کے قسط کم کروانے کی درخواست دیں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں