میٹرک گریڈنگ سسٹم کیا ہے — نئے A++ سے U تک گریڈ، فیصد اور داخلوں پر اثر

تعلیمی دستاویزات و داخلے
استاد سرخ قلم سے امتحانی پرچے چیک کر رہا ہے — میٹرک کے نئے گریڈ

میٹرک گریڈنگ سسٹم کیا ہے؟ یہ IBCC کا منظور شدہ نیا 10 درجوں والا نظام ہے جس میں نمبروں کو فیصد کے حساب سے A++ سے D تک گریڈ میں بدلا جاتا ہے، پاس ہونے کی حد 33 کے بجائے 40 فیصد ہے اور اس سے کم پر U گریڈ ملتا ہے۔ 2026 سے یہ نویں جماعت پر لاگو ہوا ہے۔

پچھلے کئی سال سے بورڈز کے نتائج میں بہت بڑی تعداد میں بچے 80 فیصد سے اوپر نمبر لے کر A+ میں آ رہے تھے، جس سے اچھے اور بہت اچھے طالب علم میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ اسی "نمبروں کی دوڑ" کو کم کرنے کے لیے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) نے نیا میٹرک گریڈنگ سسٹم منظور کیا۔ ذیل میں نئے گریڈ کی جدول، پرانے نظام سے فرق، نفاذ کا شیڈول اور داخلوں پر اثر ایک ایک کر کے سمجھایا گیا ہے۔

کلاس روم میں طلبہ استاد کی نگرانی میں پرچہ حل کر رہے ہیں — میٹرک گریڈنگ سسٹم کے تحت امتحان

میٹرک گریڈنگ سسٹم کیا ہے اور نئی جدول کیسی ہے؟

نئے نظام میں ہر مضمون کے نمبر پہلے فیصد میں بدلتے ہیں، پھر اس فیصد پر گریڈ لگتا ہے۔ اگست 2025 میں IBCC کے 182ویں اجلاس میں جدول میں ترمیم کی گئی اور وفاقی بورڈ (FBISE) نے اکتوبر 2025 میں اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نظرثانی شدہ جدول یہ ہے:

فیصد نمبرگریڈ
96 سے 100A++
91 سے 95A+
86 سے 90A
81 سے 85B++
76 سے 80B+
71 سے 75B
61 سے 70C+
51 سے 60C
40 سے 50D
40 سے کمU (دوبارہ امتحان)

دھیان رہے: 2024 میں جو پہلی جدول اخبارات میں چھپی تھی اس میں A++ کی حد 95 فیصد تھی اور نچلے گریڈ C، D اور E تھے۔ کئی ویب سائٹس ابھی تک وہی پرانی جدول دکھا رہی ہیں۔ آپ کے رزلٹ کارڈ کی پشت یا بورڈ کی ویب سائٹ پر جو جدول ہو، وہی حتمی ہے۔ IBCC کے مطابق ہر بورڈ رزلٹ کارڈ پر گریڈنگ کا معیار بھی لکھے گا۔

استاد امتحانی کاپیوں پر نمبر لگا رہا ہے — نئے گریڈ کی فیصد جدول

پرانے اور نئے نظام میں پانچ بڑے فرق

پنجاب سمیت زیادہ تر بورڈز میں اب تک 7 درجوں والا نظام چل رہا تھا۔ دونوں کا موازنہ:

پہلوپرانا نظامنیا نظام
گریڈ کی تعداد7 (A+ سے F تک)10 (A++ سے U تک)
سب سے اونچا گریڈA+ عموماً 80 فیصد یا زیادہA++ صرف 96 فیصد یا زیادہ
پاس ہونے کی حد33 فیصد40 فیصد
فیل کا اظہارF گریڈ یا "فیل"U گریڈ، لفظ "فیل" نہیں
آخری مقصدصرف نمبر اور فیصدآگے چل کر GPA اور CGPA

سب سے بڑا عملی فرق یہ ہے کہ جو بچہ پہلے 82 فیصد لے کر A+ کہلاتا تھا، وہ اب B++ میں آئے گا۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بچے کی کارکردگی کم نہیں ہوئی، صرف پیمانہ سخت ہوا ہے۔ اسی طرح 33 سے 39 فیصد والا بچہ جو پہلے E گریڈ سے پاس ہو جاتا تھا، اب U گریڈ لے گا۔

طالب علم کیلکولیٹر کے ساتھ کاپی میں حساب لکھ رہا ہے — پرانے اور نئے گریڈ کا فرق

نفاذ کا شیڈول: کس جماعت پر کب سے؟

یہ نظام 2024 میں اعلان ہوا، پھر 2025 میں مؤخر ہوا اور آخرکار مرحلہ وار شروع ہوا:

  1. 2026 کا پہلا سالانہ امتحان: نویں جماعت (SSC-I) اور گیارہویں جماعت (HSSC-I)۔ لاہور بورڈ کا ستمبر 2026 کا نویں جماعت کا رزلٹ اسی نئی جدول پر آیا۔
  2. 2027 کا پہلا سالانہ امتحان: دسویں جماعت (SSC-II) اور بارہویں جماعت (HSSC-II)۔
  3. مکمل نفاذ: IBCC کے مطابق تمام بورڈز میں 2028 تک، اور صرف CGPA پر داخلوں کا ہدف عارضی طور پر 2029 رکھا گیا ہے۔

یہ پالیسی پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی بورڈز پر لاگو ہے، جیسے لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے BISE، کراچی کا میٹرک بورڈ، FBISE اور آغا خان بورڈ۔ کیمبرج جیسے غیر ملکی بورڈ اس سے باہر ہیں۔ جو طالب علم پرانے سال کے کسی مضمون میں بہتری یا رہ جانے والا پرچہ دے رہا ہو، IBCC کے مطابق اس پر پرانا نظام ہی لاگو ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے بورڈ سے تصدیق کریں۔

تین طلبہ کتابیں اٹھائے کیمپس کے سبزہ زار سے گزر رہے ہیں — نئے نظام کا نفاذ اور داخلے

رزلٹ کارڈ پر نمبر ملیں گے یا صرف گریڈ؟

یہ والدین کا سب سے عام سوال ہے۔ IBCC کے سوالات و جوابات کے صفحے کے مطابق موجودہ عبوری دور میں گریڈ کے ساتھ اصل نمبر (absolute scores) بھی رزلٹ کارڈ پر دیے جائیں گے، اور GPA اس وقت تک مؤخر ہے جب تک سب بورڈ نیا نظام نہیں اپنا لیتے۔ 2026 کے نویں جماعت کے نتائج میں بھی مضمون وار نمبر اور گریڈ دونوں دکھائے گئے۔

البتہ اسی صفحے پر ایک اور جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ آگے چل کر صرف لیٹر گریڈ اور گریڈ پوائنٹ رہیں گے۔ یعنی میٹرک گریڈنگ سسٹم کا آخری مرحلہ نمبروں کے بغیر ہو سکتا ہے۔ ہر گریڈ کے گریڈ پوائنٹ (جیسے A++ پر 5.0) کی سرکاری حتمی جدول ابھی واضح طور پر جاری نہیں ہوئی، اس لیے کسی ویب سائٹ کے GPA کیلکولیٹر پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ تازہ معلومات IBCC کے نئے گریڈنگ سسٹم کے سوالات و جوابات پر دیکھیں۔

اپنا رزلٹ دیکھنے کے لیے میٹرک کا رزلٹ آن لائن چیک کرنے کا مکمل طریقہ پڑھیں۔

استاد کلاس روم میں امتحانی پرچے جانچ رہا ہے — رزلٹ کارڈ پر گریڈ اور نمبر

داخلوں اور میرٹ پر نئے گریڈ کا اثر

اس وقت انٹر کالجوں، یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں کا ایگریگیٹ میٹرک اور انٹر کے نمبروں پر بنتا ہے۔ چونکہ عبوری دور میں رزلٹ کارڈ پر نمبر موجود ہیں، اس لیے فی الحال میرٹ کا فارمولا نہیں بدلا۔ IBCC کے مطابق 2026 سے 2027 کے دوران ادارے چاہیں تو گریڈ استعمال کریں یا نمبر، اور ہر ادارہ اپنی داخلہ پالیسی خود طے کرے گا۔ یہ پالیسی HEC، PEC اور PMDC کو بھی بھیجی گئی ہے۔

عملی مشورے:

  • فرسٹ ایئر کا داخلہ: کالج کی میرٹ لسٹ میں فی الحال نمبر ہی چلیں گے، اس لیے اپنا رزلٹ کارڈ سنبھال کر رکھیں۔
  • MDCAT اور ECAT: میٹرک کے نمبروں کا وزن ایگریگیٹ میں ہوتا ہے۔ تفصیل ایگریگیٹ نکالنے کا طریقہ میں دیکھیں۔
  • اسکالرشپ: کئی وظائف فیصد کی شرط رکھتے ہیں (مثلاً 60 فیصد یا زیادہ)۔ گریڈ کے بجائے رزلٹ کارڈ کا فیصد دیکھ کر اہلیت چیک کریں۔
  • بیرون ملک داخلہ: وہاں کی یونیورسٹی گریڈ کی وضاحت مانگ سکتی ہے۔ بورڈ کی جاری کردہ گریڈنگ جدول کی کاپی ساتھ لگائیں۔
نوجوان خاتون کھڑکی کے پاس لیپ ٹاپ پر داخلے کی معلومات دیکھ رہی ہے — میٹرک گریڈنگ سسٹم کیا ہے اور میرٹ پر اثر

اپنا گریڈ خود کیسے معلوم کریں؟

اگر آپ بورڈ کے رزلٹ سے پہلے اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو یہ آسان حساب کریں:

  1. کسی مضمون کے حاصل کردہ نمبر کو کل نمبروں سے تقسیم کریں۔
  2. جواب کو 100 سے ضرب دیں، یہ فیصد ہے۔
  3. اوپر والی جدول میں دیکھیں یہ فیصد کس خانے میں آتا ہے۔

مثال: انگریزی میں 75 میں سے 64 نمبر۔ 64 ÷ 75 × 100 = 85.3 فیصد، یعنی B++ گریڈ۔ اگر اردو میں 75 میں سے 29 نمبر آئیں تو 38.7 فیصد بنتا ہے، یعنی U گریڈ۔

اعشاریہ والے فیصد (جیسے 90.6) کو اوپر یا نیچے کرنے کا قاعدہ بورڈ طے کرتا ہے، اس لیے سرحدی نمبروں پر حتمی فیصلہ رزلٹ کارڈ ہی کرے گا۔ مجموعی فیصد نکالنے کا مکمل طریقہ میٹرک کی پرسنٹیج نکالنے کا طریقہ میں دیا گیا ہے۔

میز پر رکھا کیلکولیٹر اور کاپی — فیصد سے گریڈ معلوم کرنا

U گریڈ یا کم گریڈ آ جائے تو کیا کریں؟

U گریڈ کا مطلب ہے کہ اس مضمون میں 40 فیصد نمبر پورے نہیں ہوئے۔ مارک شیٹ پر "فیل" نہیں لکھا جاتا، لیکن اس مضمون کا امتحان دوبارہ دینا لازمی ہے۔ یہ قدم اٹھائیں:

بورڈ کی تاریخیں اور فیس ہر سال بدلتی ہیں۔ پنجاب کے طلبہ BISE لاہور کی ویب سائٹ اور وفاقی بورڈ کے طلبہ FBISE کی ویب سائٹ پر تازہ نوٹیفکیشن ضرور دیکھیں۔

کھلی کتابوں کے سامنے بیٹھا فکرمند طالب علم — U گریڈ کے بعد اگلا قدم

گریڈ بدلے ہیں، محنت کی قدر وہی ہے

میٹرک گریڈنگ سسٹم کی تبدیلی کا خلاصہ یہ ہے کہ اب A++ لینا پہلے کے A+ سے کہیں مشکل ہے، پاس ہونے کے لیے 40 فیصد چاہئیں، اور 2026 میں یہ صرف نویں جماعت پر لاگو ہے۔ داخلوں کا میرٹ فی الحال نمبروں پر ہی بن رہا ہے، اس لیے بچے کے نمبر اتنے ہی اہم ہیں جتنے پہلے تھے۔ کسی بھی جدول یا GPA کیلکولیٹر پر بھروسہ کرنے سے پہلے اپنے بورڈ کا تازہ نوٹیفکیشن اور رزلٹ کارڈ پر چھپا معیار ضرور دیکھیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

نئے گریڈنگ سسٹم میں میٹرک پاس کرنے کے لیے کتنے نمبر چاہئیں؟

نئی پالیسی میں ہر مضمون میں کم از کم 40 فیصد نمبر لینا ضروری ہے، جبکہ پرانے نظام میں یہ حد 33 فیصد تھی۔ 40 فیصد سے کم نمبر پر U گریڈ ملتا ہے اور طالب علم کو بورڈ کے قواعد کے مطابق دوبارہ امتحان دینا ہوتا ہے۔

A++ گریڈ کتنے فیصد نمبر پر ملتا ہے؟

IBCC کی نظرثانی شدہ جدول کے مطابق 96 سے 100 فیصد نمبر پر A++، 91 سے 95 فیصد پر A+ اور 86 سے 90 فیصد پر A گریڈ ملتا ہے۔ 2024 کی ابتدائی جدول میں A++ کی حد 95 فیصد تھی، اس لیے اپنے بورڈ کا تازہ نوٹیفکیشن ضرور دیکھیں۔

کیا 2026 میں دسویں جماعت کا رزلٹ بھی نئے گریڈ میں آئے گا؟

نہیں۔ IBCC کے شیڈول کے مطابق 2026 کے سالانہ امتحان میں نیا نظام صرف نویں اور گیارہویں جماعت پر لاگو ہوا ہے۔ دسویں اور بارہویں جماعت پر یہ 2027 کے پہلے سالانہ امتحان سے لاگو ہونا ہے۔

کیا رزلٹ کارڈ پر نمبر لکھے ہوں گے یا صرف گریڈ؟

عبوری دور میں رزلٹ کارڈ پر گریڈ کے ساتھ اصل نمبر بھی دیے جا رہے ہیں اور GPA فی الحال مؤخر ہے۔ IBCC کے مطابق جب تمام بورڈ نیا نظام اپنا لیں گے تو آگے چل کر صرف گریڈ اور CGPA رہ جانے کا امکان ہے۔

نئے گریڈنگ سسٹم سے میڈیکل اور انجینئرنگ کے میرٹ پر کیا اثر پڑے گا؟

فی الحال یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالج ایگریگیٹ میں میٹرک اور انٹر کے نمبر ہی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ رزلٹ کارڈ پر نمبر موجود ہیں۔ IBCC کے مطابق ہر ادارہ نئے نظام کے تحت اپنی داخلہ پالیسی خود بنائے گا، اس لیے متعلقہ یونیورسٹی کا داخلہ نوٹس دیکھیں۔

کیا O لیول اور A لیول پر بھی یہ گریڈنگ لاگو ہے؟

نہیں۔ IBCC کے مطابق یہ پالیسی پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی بورڈز پر لاگو ہے، لیکن پاکستان میں امتحان لینے والے غیر ملکی بورڈز جیسے کیمبرج اس سے باہر ہیں۔ ان کے نتائج کے لیے IBCC ایکویویلنس کا الگ طریقہ ہے۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں