بچوں کا اسکول میں داخلہ کرانے کا طریقہ — عمر، کاغذات اور مفت تعلیم

بچوں کا اسکول میں داخلہ کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے بچے کی عمر کے مطابق کلاس طے کریں، پھر ب فارم یا برتھ سرٹیفکیٹ، والد کے شناختی کارڈ کی کاپی اور تصاویر تیار رکھیں، قریبی سرکاری یا پسندیدہ پرائیویٹ اسکول سے داخلہ فارم لیں، اگر ٹیسٹ ہو تو دلوائیں اور فارم وقت پر جمع کرائیں۔
پاکستان میں نیا تعلیمی سال زیادہ تر اپریل میں شروع ہوتا ہے، اس لیے داخلوں کا اصل موسم فروری سے اپریل تک رہتا ہے۔ بڑے پرائیویٹ اسکول اس سے بھی پہلے، دسمبر یا جنوری میں رجسٹریشن کھول دیتے ہیں۔ نیچے بچوں کا اسکول میں داخلہ کرانے کا طریقہ سرکاری اور پرائیویٹ دونوں اسکولوں کے لیے الگ الگ دیا گیا ہے تاکہ والدین کو بار بار اسکول کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

کس عمر میں کون سی کلاس؟

داخلے میں سب سے پہلا سوال عمر کا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں ایک ہی قانون نہیں، ہر اسکول یا سرکاری ادارہ اپنی کٹ آف تاریخ رکھتا ہے۔ عام اندازہ یہ ہے:
| کلاس | عام عمر (تقریباً) | نوٹ |
|---|---|---|
| پلے گروپ / پری نرسری | 3 سال یا زائد | زیادہ تر پرائیویٹ اسکولوں میں |
| نرسری / کچی (ECE) | 4 سال یا زائد | سرکاری پرائمری اسکولوں میں کچی جماعت |
| پریپ / کے جی | 5 سال یا زائد | پرائیویٹ اسکولوں کی اصطلاح |
| پہلی جماعت | 5 سے 6 سال | کچھ وفاقی اسکول ساڑھے 4 سے 7 سال تک لیتے ہیں |
مثال کے طور پر 2026 میں ملتان ریجن کے کینٹ اسکولوں (FGEI) نے پہلی جماعت کے لیے کم از کم ساڑھے 4 اور زیادہ سے زیادہ 7 سال کی شرط رکھی تھی۔ اس لیے فارم لینے سے پہلے اسی اسکول کی عمر کی شرط اور کٹ آف تاریخ پوچھ لیں۔
آئین کے آرٹیکل 25-A کے مطابق 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یعنی اگر بچہ اس عمر میں ہے تو سرکاری اسکول اسے داخلہ دینے کا پابند ہے، چاہے وہ پہلے کبھی اسکول نہ گیا ہو۔ بڑی عمر کا بچہ ہو تو اسکول عموماً جانچ کر کے مناسب جماعت میں بٹھاتا ہے۔
داخلہ فارم کے ساتھ جمع ہونے والے کاغذات

یہ فہرست پہلے سے تیار رکھیں، ہر چیز کی دو دو فوٹو کاپیاں بنوا لیں:
- ب فارم (CRC) کی کاپی — نادرا کا جاری کردہ۔ ابھی نہیں بنا تو ب فارم بنوانے کا طریقہ دیکھیں۔
- برتھ سرٹیفکیٹ — یونین کونسل یا میونسپل ادارے کا۔ کئی اسکول اصل بھی دیکھتے ہیں۔ تفصیل کے لیے برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ پڑھیں۔
- والد یا سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
- بچے کی 2 سے 4 پاسپورٹ سائز تصاویر (عموماً نیلے یا سفید پس منظر کے ساتھ)
- پچھلے اسکول کا لیونگ سرٹیفکیٹ اور رزلٹ کارڈ — صرف اس صورت میں جب بچہ کسی اور اسکول سے آ رہا ہو
- حفاظتی ٹیکوں کا کارڈ — کچھ پرائیویٹ اسکول مانگتے ہیں
- رہائش کا ثبوت (بجلی کا بل وغیرہ) — بعض اسکول قریب رہنے والوں کو ترجیح دیتے ہیں
ب فارم نہ ہو تو داخلہ رکے گا؟
سرکاری اسکولوں میں یہ سب سے عام مسئلہ ہے۔ پنجاب حکومت نے 2020 میں داخلے پر ب فارم لازمی کیا تھا، مگر داخلے کم ہونے کی وجہ سے فروری 2022 میں یہ شرط ختم کر دی گئی۔ لہٰذا سرکاری اسکول صرف ب فارم نہ ہونے پر بچے کو واپس نہیں بھیج سکتا۔ تاہم آگے چل کر پانچویں، آٹھویں اور نویں جماعت کی رجسٹریشن میں ب فارم نمبر مانگا جاتا ہے، اس لیے داخلے کے ساتھ ہی اسے بنوا لینا عقلمندی ہے۔ دوسرے صوبوں کی پالیسی مختلف ہو سکتی ہے، اپنے ہیڈ ٹیچر سے تصدیق کر لیں۔
سرکاری اسکول میں داخلہ: مرحلہ وار

- قریبی اسکول تلاش کریں — اپنے علاقے کا گورنمنٹ پرائمری یا ایلیمنٹری اسکول۔ پنجاب کے اسکولوں کی معلومات اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ویب سائٹ پر ملتی ہیں۔
- ہیڈ ٹیچر سے ملیں — داخلے کی تاریخیں اور کاغذات پوچھیں۔ مارچ اپریل میں اکثر داخلہ مہم چلتی ہے اور اساتذہ گھر گھر بھی آتے ہیں۔
- داخلہ فارم بھریں — عموماً اسکول میں ہی مفت ملتا ہے۔ بچے کا نام بالکل ب فارم کے مطابق لکھیں۔
- کاغذات جمع کرائیں — اوپر والی فہرست کے مطابق۔
- داخلہ رجسٹر میں اندراج — اسکول بچے کا داخلہ نمبر دیتا ہے، اسے کہیں لکھ لیں۔
- مفت کتابیں وصول کریں — پنجاب میں کچی سے دسویں تک سرکاری اسکولوں میں نصابی کتابیں مفت دی جاتی ہیں۔ 2026 کے سیشن میں نئے داخل بچوں کو کتابیں 5 اپریل سے ملنا شروع ہوئیں۔
سرکاری اسکول میں داخلے یا تعلیم کی کوئی ٹیوشن فیس نہیں۔ اگر کوئی داخلے کے بدلے رقم مانگے تو ضلعی ایجوکیشن آفیسر (DEO) کے دفتر میں شکایت کی جا سکتی ہے۔
پرائیویٹ اسکول: ٹیسٹ، میرٹ لسٹ اور فیس

پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے کا عمل تھوڑا لمبا ہوتا ہے کیونکہ سیٹیں محدود اور مقابلہ زیادہ ہوتا ہے:
- رجسٹریشن کی تاریخیں دیکھیں: بڑے اسکول دسمبر سے فروری کے درمیان فارم جاری کرتے ہیں اور سیٹیں جلد بھر جاتی ہیں۔
- پراسپیکٹس اور فارم خریدیں: کئی اسکول آن لائن فارم بھی لیتے ہیں۔ رجسٹریشن فیس عام طور پر واپس نہیں ہوتی۔
- ٹیسٹ یا انٹرویو: پلے گروپ اور نرسری میں بچے کے روزمرہ معمول کے بارے میں سادہ گفتگو؛ پہلی جماعت اور اوپر انگریزی، اردو اور ریاضی کا مختصر ٹیسٹ۔
- میرٹ لسٹ: نتیجہ اسکول کے نوٹس بورڈ یا ویب سائٹ پر لگتا ہے۔
- فیس جمع کرانا: داخلہ فیس، سیکیورٹی (اکثر قابلِ واپسی) اور پہلے مہینے کی فیس۔
فارم میں کاٹ پیٹ یا اوور رائٹنگ نہ کریں؛ کئی اسکول ایسا فارم مسترد کر دیتے ہیں۔ جعلی یا تبدیل شدہ کاغذ پکڑا جائے تو داخلہ منسوخ ہو جاتا ہے۔ فیس کا ڈھانچہ تحریری طور پر لیں تاکہ بعد میں سالانہ اضافے پر بات کی جا سکے۔
کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مفت سیٹیں

بہت سے والدین کو علم نہیں کہ پرائیویٹ اسکول میں بھی مفت پڑھائی ممکن ہے:
- سندھ: 2013 کے مفت و لازمی تعلیم کے قانون کے تحت ہر پرائیویٹ اسکول کو اپنے کم از کم 10 فیصد طلبہ مفت پڑھانے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ اس پر عمل کا حکم دے چکی ہے، اور عمل نہ کرنے والے کئی اسکولوں کی رجسٹریشن روکی گئی۔
- پنجاب: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے پارٹنر پرائیویٹ اسکولوں اور واؤچر اسکیم کے ذریعے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ کون سا پروگرام اس وقت کس ضلع میں فعال ہے، یہ PEF کی ویب سائٹ یا ضلعی دفتر سے معلوم کریں۔
اسکول سے سیدھا پوچھیں کہ مستحق بچوں کا کوٹہ ہے یا نہیں، اور درخواست تحریری دیں۔ بڑی کلاسوں میں وظائف کے لیے BISP کا تعلیمی وظیفہ بھی دیکھ لیں۔
اچھا اسکول چننے سے پہلے یہ دیکھیں

صرف بڑا نام یا مہنگی فیس اچھے اسکول کی ضمانت نہیں، اور بچوں کا اسکول میں داخلہ کرانے کا طریقہ تبھی کامیاب ہے جب اسکول بچے کے لیے موزوں ہو۔ یہ چند باتیں خود جا کر دیکھیں:
| کیا دیکھیں | کیوں ضروری ہے |
|---|---|
| گھر سے فاصلہ | چھوٹا بچہ روز لمبا سفر نہیں جھیل سکتا، وین کا خرچ بھی بچتا ہے |
| ایک کلاس میں بچوں کی تعداد | 25 سے 35 کے اندر ہو تو استاد ہر بچے پر توجہ دے سکتا ہے |
| اسکول کی رجسٹریشن | پرائیویٹ اسکول محکمہ تعلیم میں رجسٹرڈ ہو، ورنہ آگے بورڈ رجسٹریشن میں مسئلہ |
| ذریعہ تعلیم | اردو میڈیم، انگلش میڈیم یا دونوں — بچے کی سہولت دیکھیں |
| واش روم، پانی اور چار دیواری | بچے کی صحت اور حفاظت |
| فیس میں سالانہ اضافے کی پالیسی | بجٹ کا اندازہ پہلے سے ہو |
سرکاری اور پرائیویٹ کے درمیان فیصلہ ہو تو یاد رکھیں کہ کئی سرکاری اسکولوں میں اب تربیت یافتہ اساتذہ اور مفت کتابیں ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ داخلے سے پہلے اسکول کا ایک چکر لگا کر چند والدین سے بات کر لیں۔ آگے بچے کو کیڈٹ کالج بھیجنے کا ارادہ ہو تو ایسا اسکول چنیں جس میں ریاضی اور انگریزی مضبوط ہو۔
بچوں کا اسکول میں داخلہ کرانے کا طریقہ: یہ غلطیاں نہ کریں

- نام میں فرق: برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم پر نام مختلف ہو تو اسکول ریکارڈ میں ب فارم والا لکھوائیں اور فرق پہلے ہی درست کروا لیں۔ بعد میں سند پر نام بدلوانا مشکل ہوتا ہے۔
- تاریخِ پیدائش غلط لکھی گئی: داخلہ رجسٹر میں درج تاریخ ہی آگے بورڈ تک جاتی ہے، اس لیے فارم پر دستخط سے پہلے دوبارہ پڑھیں۔
- عمر کٹ آف سے کچھ کم: کئی اسکول چند ہفتوں کی رعایت نہیں دیتے؛ ایسے میں بچے کو ایک کلاس نیچے داخل کرانا بہتر ہوتا ہے۔
- اسکول بدلنا: پرانے اسکول کی فیس کلیئر کر کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ ضرور لیں، اس کے بغیر نیا اسکول داخلہ نہیں دیتا۔
داخلہ وقت پر اور ب فارم کے ساتھ ہو تو آگے کی راہ آسان

بچوں کا اسکول میں داخلہ کرانے کا طریقہ مشکل نہیں، بس تیاری وقت پر ہونی چاہیے۔ جنوری میں اسکولوں کی فہرست بنا لیں، فروری تک ب فارم اور برتھ سرٹیفکیٹ مکمل کر لیں، اور مارچ اپریل میں داخلہ کرا دیں۔ سرکاری اسکول میں 5 سے 16 سال کے بچے کا داخلہ اس کا آئینی حق ہے، کوئی اسکول اسے کاغذات کی کمی پر محروم نہ کرے۔ تاریخیں، عمر کی شرط اور فیس ہر سال بدلتی ہیں، اس لیے آخری فیصلہ اسکول کے تازہ نوٹس اور اپنے صوبائی محکمہ تعلیم کی ہدایت دیکھ کر ہی کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
بچے کو اسکول میں کس عمر میں داخل کرانا چاہیے؟
زیادہ تر اسکول پلے گروپ یا پری نرسری میں تقریباً 3 سال، نرسری میں تقریباً 4 سال اور پہلی جماعت میں تقریباً 5 سے 6 سال کی عمر کے بچے لیتے ہیں۔ ہر اسکول اپنی کٹ آف تاریخ رکھتا ہے، اس لیے داخلہ فارم پر لکھی عمر کی شرط ضرور پڑھیں۔ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت 5 سے 16 سال کے بچوں کی مفت تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کیا ب فارم کے بغیر سرکاری اسکول میں داخلہ ہو سکتا ہے؟
پنجاب حکومت نے 2022 میں سرکاری اسکولوں میں داخلے کے وقت ب فارم کی لازمی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ کوئی بچہ داخلے سے محروم نہ رہے۔ تاہم بعد میں امتحانی رجسٹریشن کے لیے ب فارم نمبر مانگا جاتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ داخلے کے ساتھ ہی ب فارم بنوا لیں۔ اپنے صوبے اور اسکول کی تازہ ہدایت ہیڈ ٹیچر سے معلوم کریں۔
سرکاری اسکول میں داخلے کی کوئی فیس ہوتی ہے؟
سرکاری اسکولوں میں میٹرک تک تعلیم بنیادی طور پر مفت ہے اور پنجاب سمیت کئی صوبوں میں نصابی کتابیں بھی مفت دی جاتی ہیں۔ کچھ اسکول معمولی فنڈ یا یونیفارم کا خرچ مانگ سکتے ہیں۔ اگر کوئی داخلے کے بدلے پیسے مانگے تو ضلعی ایجوکیشن آفس سے رابطہ کریں۔
پرائیویٹ اسکول میں داخلے کے لیے کیا ٹیسٹ ہوتا ہے؟
پلے گروپ اور نرسری میں عموماً صرف بچے اور والدین سے مختصر بات چیت ہوتی ہے۔ پہلی جماعت اور اوپر کی کلاسوں میں اکثر انگریزی، اردو اور ریاضی کا سادہ تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو لیا جاتا ہے۔ کئی بڑے اسکول رجسٹریشن یا پراسیسنگ فیس بھی لیتے ہیں جو ناقابلِ واپسی ہوتی ہے۔
کیا غریب بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں مفت داخلہ مل سکتا ہے؟
سندھ کے 2013 کے مفت و لازمی تعلیم کے قانون کے تحت پرائیویٹ اسکولوں کو کم از کم 10 فیصد مستحق بچوں کو مفت پڑھانا ہوتا ہے، اور عدالتیں اس پر عمل کا حکم دے چکی ہیں۔ پنجاب میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پارٹنر اسکولوں میں بھی مفت تعلیم کے پروگرام چلتے رہے ہیں۔ عملدرآمد کمزور ہے، اس لیے اسکول سے تحریری طور پر پوچھیں اور PEF کی ویب سائٹ چیک کریں۔
سال کے درمیان بچے کا اسکول بدلنا ہو تو کیا کریں؟
پرانے اسکول سے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ اور آخری رزلٹ کارڈ لیں، تمام واجب الادا فیس ادا کریں، پھر نئے اسکول میں یہ کاغذات، ب فارم کی کاپی اور تصاویر جمع کرائیں۔ نیا اسکول عموماً پچھلی جماعت کے مطابق جانچ ٹیسٹ لے کر کلاس طے کرتا ہے۔
