شکار کرنے کا طریقہ: قانون، حفاظت اور حلال اصول

شکار کرنے کا طریقہ آج صرف مہارت کا نہیں بلکہ قانون اور ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے متعلقہ محکمہ وائلڈ لائف سے شکار کا لائسنس اور پرمٹ حاصل کریں، صرف مقررہ موسم میں اور اجازت یافتہ انواع کا یومیہ حد کے اندر شکار کریں، محفوظ (ممنوعہ) جانوروں اور پرندوں سے مکمل پرہیز کریں، محفوظ و قانونی آلات استعمال کریں، اور شکار چھوڑتے وقت "بسم اللہ، اللہ اکبر" پڑھ کر حلال کے اصول ملحوظ رکھیں۔
شکار برِصغیر کا ایک قدیم مشغلہ اور بعض دیہی علاقوں میں خوراک کا ذریعہ رہا ہے، مگر گھٹتی ہوئی جنگلی حیات کی وجہ سے اب اس کے سخت قوانین ہیں۔ شکار کیے گئے جانور کو حلال بنانے کے اصول جانور ذبح کرنے کا طریقہ سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

شکار کرنے کا طریقہ: بنیادی اصول اور قانونی حیثیت
شکار کرنے کا طریقہ سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ آج بے قاعدہ شکار جرم ہے۔ Wikipedia کے مطابق دنیا بھر میں شکار کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قوانین کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔ ذمہ دار شکار کے چار بنیادی اصول:
- لائسنس اور پرمٹ — قانونی اجازت کے بغیر شکار نہ کریں۔
- مقررہ موسم اور حد — صرف کھلے سیزن میں، یومیہ تعداد کے اندر۔
- صرف اجازت یافتہ انواع — محفوظ جانوروں سے مکمل پرہیز۔
- حفاظت اور حلال اصول — اپنی، دوسروں کی اور جانور کے حق کی رعایت۔
انہی اصولوں کی تفصیل آگے دی گئی ہے۔
لائسنس، موسم اور قواعد

- لائسنس: متعلقہ صوبائی محکمہ وائلڈ لائف سے شوٹنگ/ہنٹنگ لائسنس حاصل کریں؛ تیتر، بٹیر اور آبی پرندوں کے لیے الگ پرمٹ درکار ہوتا ہے۔
- موسم: عام طور پر اکتوبر سے اپریل، مگر ہر نوع کا اپنا سیزن ہے۔ بہت سے علاقوں میں شکار صرف ہفتہ اور اتوار کو اور یومیہ مقررہ تعداد (مثلاً چند پرندے فی دن) تک محدود ہے۔
- جگہ: قومی پارکس، محفوظ علاقوں (game reserves) اور نجی زمین پر بلا اجازت شکار ممنوع ہے۔
Express Tribune کے مطابق نئے وائلڈ لائف قوانین کے تحت بغیر لائسنس یا محفوظ انواع کا شکار سنگین جرم بن چکا ہے۔
اجازت یافتہ اور محفوظ (ممنوعہ) انواع

عام اجازت یافتہ (سیزن و پرمٹ کے ساتھ): تیتر، بٹیر، فاختہ، اور بعض آبی پرندے (مرغابی/بطخ) — مقررہ موسم اور یومیہ حد کے اندر۔
محفوظ (ممنوعہ) انواع — ان کا شکار سختی سے منع ہے:
- جانور: مارخور (سوائے منظور شدہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام)، برفانی چیتا، سندھ ڈولفن، بھورا ریچھ، پینگولن۔
- پرندے: تلور (ہوبارا)، باز، کرین (کونج) اور گدھ۔
تلور (Houbara Bustard) ایک معدومیت کے خطرے سے دوچار پرندہ ہے جس کا شکار خصوصی ضوابط کے تحت ہی ممکن ہے۔ ہمیشہ تازہ ترین صوبائی فہرست دیکھ کر ہی شکار کریں۔
شکار کے آلات اور طریقے

شکار کے عام طریقے اور آلات:
- گن (شاٹ گن/رائفل): سب سے عام؛ اس کے لیے اسلحہ لائسنس لازمی ہے۔
- تیر کمان: روایتی اور مہارت طلب طریقہ۔
- سدھائے ہوئے باز (Falconry): پاکستان میں اس کے بھی قواعد و ضوابط ہیں۔
- شکاری کتے: پرندے اور چھوٹے جانور تلاش کرنے اور لانے میں مدد دیتے ہیں۔
ممنوعہ طریقے: زہر، بجلی، دھماکہ خیز مواد یا رات کو تیز روشنی سے شکار غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہیں — یہ بے دریغ ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔
شکاری کتے کا کردار

تربیت یافتہ شکاری کتا (جیسے پوائنٹر یا ریٹریور) شکار کو تلاش کرنے، اشارہ دینے اور گرے ہوئے شکار کو لانے میں مدد دیتا ہے۔ اسلامی لحاظ سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر سدھایا ہوا کتا شکار چھوڑتے وقت "بسم اللہ" پڑھ کر بھیجا جائے اور وہ شکار کو پکڑ کر مار دے (کھائے نہیں) تو وہ شکار حلال ہوتا ہے۔ کتے کی تربیت، صحت اور صفائی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
حفاظتی اصول اور اخلاقیات
شکار میں سب سے اہم چیز انسانی جان کی حفاظت اور جنگلی حیات کا احترام ہے:
- اسلحہ کی حفاظت: گن کا رخ کبھی انسان کی طرف نہ کریں؛ استعمال کے بعد خالی رکھیں اور محفوظ مقام پر رکھیں۔
- ہدف کی شناخت: فائر سے پہلے یقینی بنائیں کہ ہدف اجازت یافتہ نوع ہی ہے، آس پاس کوئی شخص نہ ہو۔
- ضیاع سے بچیں: صرف ضرورت کے مطابق شکار کریں؛ بے جا اور تفریحی ہلاکت اسلام اور قانون دونوں میں ناپسندیدہ ہے۔
- زخمی شکار: زخمی جانور کو تڑپنے نہ دیں — فوراً تلاش کر کے ذبح کریں۔
- ماحول: فصلوں، آبادی اور محفوظ علاقوں کے قریب شکار سے گریز کریں۔
حلال شکار کے احکام

شکار کیے گئے جانور کو حلال بنانے کے بنیادی اصول:
- زندہ شکار: اگر جانور زندہ ہاتھ آ جائے تو اسے باقاعدہ ذبح کریں۔
- مرا ہوا شکار: اگر دھار دار آلے (تیر/گولی) یا سدھائے ہوئے شکاری جانور سے شکار مر جائے تو حلال ہے، بشرطیکہ بھیجتے/فائر کرتے وقت "بسم اللہ، اللہ اکبر" پڑھا گیا ہو۔
- صرف کھانے کے قابل انواع کا شکار حلال ہے؛ حرام جانوروں کا شکار جائز نہیں۔
شکار کے بعد جانور کی صفائی اور کھال اتارنے کے لیے بکرے کی کھال اتارنے کا طریقہ کے اصول مددگار ہیں، اور گوشت کی صفائی و ہینڈلنگ میں پولٹری فارم جیسی حفظانِ صحت کی احتیاطیں بھی اپنائیں۔
لائسنس، مقررہ موسم، صرف اجازت یافتہ انواع، محفوظ آلات اور حلال اصول — یہی چند بنیادیں ذمہ دار اور قانونی شکار کی ضمانت ہیں۔ شکار کو محض تفریح نہیں بلکہ امانت سمجھیں؛ جنگلی حیات محدود ہے، اس لیے قانون کی پابندی اور اعتدال ہی آنے والی نسلوں کے لیے اس کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاکستان میں شکار کے لیے لائسنس کیسے حاصل کریں؟
شکار کے لیے متعلقہ صوبائی محکمہ وائلڈ لائف سے شوٹنگ/ہنٹنگ لائسنس لینا ضروری ہے۔ پنجاب میں مقامی شہری کے لیے فیس نسبتاً کم اور غیر ملکی کے لیے زیادہ ہوتی ہے، اور تیتر، بٹیر اور آبی پرندوں کے لیے الگ پرمٹ درکار ہوتا ہے۔ لائسنس کے بغیر شکار غیر قانونی اور قابلِ سزا ہے۔
پاکستان میں شکار کا موسم کونسا ہے؟
عام طور پر شکار کا موسم اکتوبر سے اپریل تک ہوتا ہے، البتہ ہر نوع کا اپنا مقررہ موسم ہے — مثلاً بٹیر اور بعض گیم برڈز کا موسم اگست سے شروع ہو سکتا ہے جبکہ تیتر کا وسط نومبر سے۔ کئی صوبوں میں شکار صرف ہفتہ اور اتوار کو اور یومیہ مقررہ تعداد تک کی اجازت ہوتی ہے۔
کن جانوروں اور پرندوں کا شکار منع ہے؟
محفوظ (ممنوعہ) انواع میں مارخور (سوائے منظور شدہ ٹرافی ہنٹنگ کے)، برفانی چیتا، سندھ ڈولفن، بھورا ریچھ، تلور (ہوبارا)، باز، کرین (کونج) اور گدھ شامل ہیں۔ ان کا شکار سختی سے ممنوع اور سنگین جرم ہے۔ ہمیشہ تازہ ترین صوبائی فہرست دیکھ کر ہی شکار کریں۔
شکار کیا گیا جانور حلال کیسے ہوتا ہے؟
اگر شکار زندہ ہاتھ آ جائے تو اسے باقاعدہ ذبح کیا جائے۔ اگر تیر، گولی یا سدھائے ہوئے شکاری جانور سے شکار مر جائے تو وہ بھی حلال ہے بشرطیکہ شکار چھوڑتے وقت "بسم اللہ، اللہ اکبر" پڑھا گیا ہو اور آلہ دھار دار ہو۔ زخمی جانور ملے تو فوراً ذبح کریں۔
شکار کے لیے کونسے آلات استعمال ہوتے ہیں؟
عام آلات میں گن (شاٹ گن/رائفل)، تیر کمان، اور پرندوں کے لیے جال شامل ہیں؛ روایتی طور پر سدھائے ہوئے باز اور شکاری کتے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ آلہ کا قانونی ہونا (اسلحہ لائسنس) اور محفوظ استعمال ضروری ہے۔ ممنوعہ طریقے جیسے زہر یا بجلی کا استعمال غیر قانونی ہیں۔
غیر قانونی شکار کی سزا کیا ہے؟
حالیہ ترمیم شدہ وائلڈ لائف قوانین کے تحت غیر قانونی شکار اور پوچنگ قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت جرم ہے۔ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے (لاکھوں روپے تک) اور کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، خاص طور پر محفوظ انواع کے شکار پر۔
