پیاز کی کاشت کا طریقہ: نرسری سے ذخیرہ تک مکمل گائیڈ

پیاز کی کاشت کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے نرسری میں بیج سے پنیری تیار کریں (ربیع کے لیے اکتوبر نومبر)، 8 سے 9 ہفتے بعد پودے ہموار، زرخیز زمین میں 15 سینٹی میٹر قطار اور 10 سینٹی میٹر پودوں کے فاصلے پر منتقل کریں، پیوند کاری کے وقت پوری فاسفورس و پوٹاش اور آدھی نائٹروجن دیں، باقاعدہ آبپاشی کریں اور بیماریوں سے بچاؤ کریں — فصل تقریباً 100 سے 130 دن میں تیار ہوتی ہے جب پتے زرد ہو کر گردنیں گر جائیں۔
پیاز ہر باورچی خانے کی بنیادی ضرورت اور پاکستان کی ایک اہم نقد آور سبزی ہے۔ لہسن اگانے کا طریقہ کی طرح پیاز بھی صحیح وقت، اچھی نرسری اور متوازن کھاد سے بھرپور پیداوار دیتا ہے۔

پیاز کی کاشت کا طریقہ: بنیادی مراحل
پیاز کی کاشت کا طریقہ بنیادی طور پر نرسری اور پیوند کاری پر مبنی ہے۔ Wikipedia کے مطابق پیاز (Allium cepa) دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی سبزیوں میں شامل ہے۔ پاکستان میں اس کے بنیادی مراحل:
- نرسری کی تیاری — بیج سے پنیری اگانا
- زمین کی تیاری اور پیوند کاری — پودے کھیت میں منتقل کرنا
- آبپاشی اور کھاد — متوازن خوراک اور پانی
- بیماریوں اور کیڑوں کا تدارک
- کٹائی اور ذخیرہ
ہر مرحلے کی تفصیل آگے دی گئی ہے۔
موزوں وقت، زمین اور اقسام

کاشت کا وقت: ApniKheti کے مطابق ربیع کی فصل کے لیے نرسری اکتوبر تا نومبر اور خریف کے لیے وسط جون میں لگائی جاتی ہے۔
زمین: پیاز کے لیے زرخیز، بھربھری اور اچھی نکاسی والی میرا زمین بہترین ہے، pH 6 سے 7۔ زمین کو اچھی طرح ہل اور سہاگہ سے ہموار کریں اور گوبر کی پکی کھاد ملائیں۔
اقسام: پاکستان کے لیے چھوٹے اور درمیانے دن (short/medium day) والی اقسام موزوں ہیں — پھلکارہ اور دیسی سرخ پیاز سندھ و پنجاب میں مقبول ہیں۔ علاقے کے مطابق منظور شدہ قسم کا انتخاب اہم ہے۔
نرسری اور پیوند کاری

نرسری:
- ایک ایکڑ کے لیے تقریباً 3 سے 4 کلو بیج اور 0.05 ایکڑ نرسری کافی ہے۔
- اٹھی ہوئی کیاریوں میں بیج 1 سینٹی میٹر گہرا اور 5 سے 7 سینٹی میٹر دور لگائیں۔
- ہلکا پانی دیں؛ نرسری ربیع میں 8 سے 9 ہفتے اور خریف میں 6 سے 7 ہفتے میں تیار ہو جاتی ہے۔
پیوند کاری:
- جب پودے 15 سینٹی میٹر لمبے اور پنسل جتنے موٹے ہوں تو کھیت میں منتقل کریں۔
- قطاروں کا فاصلہ 15 سینٹی میٹر اور پودوں کا فاصلہ 10 سینٹی میٹر رکھیں۔
- پودے کو بہت گہرا نہ لگائیں ورنہ گانٹھ صحیح نہیں بنتی۔
آبپاشی اور کھاد

آبپاشی: پیوند کاری کے فوراً بعد اور پھر تیسرے دن پانی دیں، اس کے بعد موسم اور زمین کے مطابق ہر 10 سے 15 دن بعد آبپاشی کریں۔ گانٹھ بننے کے وقت پانی یکساں رکھیں، مگر کٹائی سے 2 سے 3 ہفتے پہلے پانی بند کر دیں تاکہ گانٹھ سخت ہو۔
کھاد: فی ایکڑ تجویز کردہ مقدار تقریباً نائٹروجن 40 کلو، فاسفورس 20 کلو اور پوٹاش 20 کلو ہے (یعنی یوریا تقریباً 90 کلو، سنگل سپر فاسفیٹ 125 کلو اور MOP 35 کلو):
- پیوند کاری کے وقت: پوری فاسفورس، پوری پوٹاش اور آدھی نائٹروجن
- بعد میں: باقی نائٹروجن دو حصوں میں
گوبر کی پکی کھاد یا بائیو گیس پلانٹ کی سلری زمین کی زرخیزی بڑھاتی ہے۔
کیڑے، بیماریاں اور دیکھ بھال
پیاز کی پیداوار کو بچانے کے لیے بروقت تدارک ضروری ہے:
- تھرپس (Thrips): پتوں کا رس چوس کر انہیں چاندی نما کر دیتے ہیں — مناسب سپرے سے کنٹرول کریں۔
- پیاز کی مکھی (Onion Fly): جڑوں اور گانٹھ کو نقصان دیتی ہے۔
- جامنی دھبہ (Purple Blotch) اور ڈاؤنی ملڈیو: پتوں پر دھبے اور پھپھوندی — پھپھوند کش دوا اور صاف بیج سے بچاؤ۔
- جڑی بوٹیاں: پیاز کی کم اونچائی کی وجہ سے جڑی بوٹیاں جلد حاوی ہو جاتی ہیں، اس لیے بروقت گوڈی ضروری ہے۔
فصل کا ہیرپھیر اور مناسب فاصلہ بیماریوں کو کم رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
کٹائی، ذخیرہ اور پیداوار

کٹائی: فصل پیوند کاری کے 100 سے 130 دن بعد تیار ہوتی ہے۔ جب تقریباً 50 سے 75 فیصد پودوں کی گردنیں نرم ہو کر پتے گر جائیں اور زرد پڑ جائیں تو گانٹھیں نکال لیں۔ کٹائی سے پہلے پانی بند کر دینا ذخیرے کے لیے بہتر ہے۔
کیورنگ (خشک کرنا): نکالی ہوئی گانٹھوں کو چند دن سایہ دار، ہوادار جگہ پر پھیلا کر خشک کریں تاکہ اوپری چھلکا اور گردن سوکھ جائے — یہ ذخیرے کی عمر بڑھاتا ہے۔

ذخیرہ اور پیداوار: صرف صحت مند، بے داغ گانٹھوں کو ٹھنڈی، خشک اور ہوادار جگہ پر رکھیں۔ اچھی دیکھ بھال سے فی ایکڑ کئی ٹن پیداوار ممکن ہے۔ گھریلو ضرورت کے لیے ٹماٹر اگانے کی طرح پیاز بھی چند کیاریوں یا گملوں میں اگایا جا سکتا ہے۔
موزوں وقت پر نرسری، صحت مند پنیری، درست فاصلے پر پیوند کاری، متوازن کھاد و آبپاشی اور بروقت کیورنگ — یہی چند اصول پاکستان میں پیاز کی بھرپور اور دیرپا فصل کی ضمانت ہیں۔ تھوڑی منصوبہ بندی اور دیکھ بھال سے پیاز ہر کاشتکار کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور منافع بخش سبزی ثابت ہوتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاکستان میں پیاز لگانے کا بہترین وقت کونسا ہے؟
پاکستان میں پیاز کی دو فصلیں ہیں۔ ربیع (سردیوں) کی فصل کے لیے نرسری اکتوبر سے نومبر میں لگائی جاتی ہے، جبکہ خریف فصل کی نرسری وسط جون میں لگائی جاتی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں ربیع کی فصل سب سے زیادہ کاشت کی جاتی ہے۔
ایک ایکڑ پیاز کے لیے کتنا بیج چاہیے؟
ایک ایکڑ کھیت کی نرسری کے لیے تقریباً 3 سے 4 کلو معیاری بیج کافی ہے۔ نرسری کے لیے تقریباً 0.05 ایکڑ (200 مربع میٹر) جگہ مختص کریں۔ ہمیشہ تصدیق شدہ اور تازہ بیج استعمال کریں کیونکہ پرانے بیج کا اگاؤ کم ہوتا ہے۔
پیاز کی فصل کتنے دن میں تیار ہوتی ہے؟
پیاز کی فصل پیوند کاری کے تقریباً 100 سے 130 دن بعد تیار ہوتی ہے (نرسری سمیت کل تقریباً 4 سے 5 ماہ)۔ جب پودوں کی گردنیں نرم ہو کر پتے زرد پڑنے اور گرنے لگیں تو سمجھ لیں کہ گانٹھیں (bulbs) کٹائی کے قابل ہو گئی ہیں۔
پیاز کی پنیری کب اور کیسے لگائیں؟
اٹھی ہوئی کیاریوں میں بیج 1 سینٹی میٹر گہرا اور 5 سے 7 سینٹی میٹر دور لگائیں اور ہلکا پانی دیں۔ نرسری ربیع میں 8 سے 9 ہفتے اور خریف میں 6 سے 7 ہفتے میں تیار ہو جاتی ہے، پھر پودے کھیت میں منتقل کیے جاتے ہیں۔
پیاز کے پودوں میں کتنا فاصلہ رکھیں؟
پیوند کاری کے وقت قطاروں کا فاصلہ 15 سینٹی میٹر اور پودوں کا آپس میں فاصلہ 10 سینٹی میٹر رکھیں۔ مناسب فاصلہ گانٹھ کو پھیلنے کی جگہ دیتا ہے، ہوا کی آمدورفت بہتر کرتا اور بیماریوں کو کم رکھتا ہے۔
پیاز کو کیسے ذخیرہ کریں؟
کٹائی کے بعد پیاز کو چند دن سایہ دار ہوادار جگہ پر خشک (curing) کریں تاکہ اوپری چھلکا سوکھ جائے۔ پھر صرف صحت مند، بے داغ گانٹھوں کو ٹھنڈی، خشک اور ہوادار جگہ پر جالی دار تھیلوں یا کھلے ڈھیر میں رکھیں۔ نمی اور بند جگہ پیاز کو جلد سڑا دیتی ہے۔
