مٹر کی کاشت کا طریقہ: بیج سے کٹائی تک مکمل گائیڈ

زراعت
سرسبز مٹر کے کھیت کا منظر — مٹر کی کاشت کا طریقہ

مٹر کی کاشت کا طریقہ یہ ہے کہ اچھے نکاس والی زرخیز میرا مٹی تیار کریں، تصدیق شدہ بیج کو ایک رات پانی میں بھگو کر موسم سرما (اکتوبر تا نومبر) میں 2 سے 4 سینٹی میٹر گہرائی پر، قطاروں میں 30 سے 40 اور پودوں میں 10 سے 15 سینٹی میٹر فاصلے پر لگائیں، ہلکی باقاعدہ آبپاشی اور متوازن کھاد دیں، چیچک اور تیلے جیسے مسائل سے بچاؤ کریں، اور 60 سے 70 دن بعد بھری ہوئی سبز پھلیاں چنیں — یہی چند مراسم بھرپور پیداوار کی ضمانت ہیں۔

مٹر (Peas) موسم سرما کی ایک مقبول اور منافع بخش سبزی ہے جسے کم رقبے میں بھی کامیابی سے اگایا جا سکتا ہے۔ پودے لگانے کا طریقہ جاننے کے بعد مٹر کی منظم کاشت گھریلو باغ اور تجارتی فارم دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

سرسبز مٹر کے پودے بیلوں پر پھلیوں کے ساتھ — مٹر کی کاشت کا طریقہ

مٹر کی کاشت کا طریقہ: بنیادی باتیں

مٹر کی کاشت کا طریقہ سمجھنے کے لیے یہ جان لیں کہ مٹر ٹھنڈی فصل ہے جسے بھربھری مٹی، معتدل درجہ حرارت اور اچھے نکاس کی ضرورت ہوتی ہے۔ Wikipedia کے مطابق مٹر (Pisum sativum) پھلیوں والی سبزی ہے جو پروٹین، فائبر اور وٹامن سے بھرپور ہے۔ کامیاب کاشت کے بنیادی ستون:

  1. ٹھنڈا موسم اور موزوں مٹی
  2. تصدیق شدہ، صحت مند بیج
  3. درست بوائی اور مناسب فاصلہ
  4. ہلکی آبپاشی، متوازن کھاد اور بیماریوں سے بچاؤ

ان میں سے ہر مرحلہ پیداوار اور پھلیوں کے معیار پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔

موزوں مٹی، موسم اور زمین کی تیاری

مٹر کی ننھی پنیری باغیچے میں — مٹر بھربھری زرخیز میرا مٹی میں بہترین اگتا ہے
  • مٹی: اچھے نکاس والی زرخیز میرا مٹی بہترین ہے، pH تقریباً 6.0 تا 7.0۔
  • موسم: RHS کے مطابق مٹر ٹھنڈی فصل ہے — بیج اگنے کے لیے 8 تا 30 ڈگری اور بڑھوتری کے لیے 10 تا 20 ڈگری موزوں ہے۔ میدانی علاقوں میں اکتوبر تا نومبر بوائی کا بہترین وقت ہے۔
  • زمین کی تیاری: دو سے تین مرتبہ ہل چلا کر زمین بھربھری کریں اور آخری ہل سے پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد یا کمپوسٹ ملائیں۔ زمین میں پانی نکاس کا مناسب نظام ہونا ضروری ہے۔

مٹر کی جڑوں پر موجود گرہیں (nodules) قدرتی طور پر نائٹروجن کو زمین میں فکس کرتی ہیں، اس لیے یہ فصل زمین کی زرخیزی بڑھانے میں بھی مددگار ہے۔

بیج کا انتخاب، اقسام اور بوائی

مٹر کے تازہ سبز پودے اور پھلیاں — صحت مند پودوں کے لیے تصدیق شدہ بیج اور درست بوائی ضروری ہے
  • بیج کا انتخاب: Almanac کے مطابق تصدیق شدہ بیماری سے پاک بیج استعمال کریں۔ مٹر کی اہم اقسام میں اگیتی (جلد پکنے والی)، درمیانی اور پچھیتی (دیر سے پکنے والی) شامل ہیں۔
  • بیج بھگونا: بوائی سے ایک رات پہلے بیج کو پانی میں بھگو دیں — اس سے اگاؤ کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
  • گہرائی اور فاصلہ:
    • بیج 2 تا 4 سینٹی میٹر گہرائی پر لگائیں۔
    • قطاروں کے درمیان 30 تا 40 سینٹی میٹر فاصلہ رکھیں۔
    • پودوں کے درمیان 10 تا 15 سینٹی میٹر فاصلہ رکھیں۔
  • چھدرائی: اگنے کے بعد ہر جگہ ایک مضبوط پودا چھوڑ کر کمزور پودے نکال دیں۔

آبپاشی اور کھاد کا نظام

مٹر کے پودے پر قریبی منظر میں تازہ سبز پھلیاں — مناسب آبپاشی اور خوراک سے معیاری پیداوار
  • پہلی آبپاشی: بوائی کے فوراً بعد ہلکا پانی دیں۔
  • بعد کی آبپاشی: موسم اور زمین کے مطابق ہر 10 تا 15 دن بعد پانی دیں۔ مٹر کو زیادہ پانی نقصان دہ ہے۔
  • اہم مرحلہ: پھول آنے اور پھلیاں بننے کے دوران نمی کو برقرار رکھیں — یہ پیداوار کا سب سے اہم وقت ہے۔ اس وقت پانی کی کمی پھلیوں کے معیار کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
  • کھاد: بوائی کے وقت فاسفورس اور پوٹاش کی متوازن مقدار دیں۔ مٹر کی جڑیں خود نائٹروجن فکس کرتی ہیں، اس لیے اضافی نائٹروجن کی ضرورت کم ہوتی ہے۔ نامیاتی کھاد کے لیے کمپوسٹ کھاد بنانے کا طریقہ ضرور پڑھیں۔

جڑی بوٹیاں، بیماریوں اور کیڑوں سے بچاؤ

کھیت میں مٹر چنتی بزرگ خاتون — صاف ستھرا کھیت اور بروقت چنائی صحت مند فصل کی ضمانت

جڑی بوٹیاں: مٹر کے کھیت کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھیں۔ گوڈی کرنے سے زمین نرم ہوتی ہے اور آکسیجن مٹی میں جذب ہوتی ہے۔

عام بیماریاں اور حل:

  • چیچک (Powdery Mildew): پتوں پر سفید پھپھوندی — پھپھوند کش سپرے اور ہوا دار کھیت سے بچاؤ کریں۔
  • اکھیڑا (Damping Off): بیج گلنا یا اگتے ہوئے پودے کا مرجھانا — تصدیق شدہ بیج، مناسب نکاس اور بیج کو پھپھوند کش زہر لگا کر بچائیں۔
  • روئیں دار پھپھوندی (Downy Mildew): پتوں پر نمدار دھبے — 20 سے 25 ڈگری پر پھیلتی ہے، بروقت سپرے ضروری ہے۔

عام کیڑے:

  • تیلا (Aphids): پتوں سے رس چوستا ہے — شدید حملہ ہونے پر سپرے کریں۔
  • امریکن سنڈی: پتوں اور پھلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
  • سرنگی مکھی: پتوں کے اندر سرنگیں بناتی ہے۔

احتیاط: فصل کی ہیر پھیر (crop rotation) کریں — ایک ہی کھیت میں مسلسل مٹر یا پھلی والی فصلیں نہ لگائیں۔ کم از کم 3 سال کا وقفہ دیں۔ اس سے بیماریوں اور کیڑوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

کٹائی، پیداوار اور ذخیرہ

مٹر کے تازہ چنے ہوئے دانے اور پھلیاں — بروقت چنی گئی پھلیاں معیاری اور منافع بخش ہوتی ہیں
  • پہلی پیداوار: بوائی کے 60 تا 70 دن بعد جب پھلیاں گہری سبز اور بھری ہوئی ہوں۔
  • چنائی کا طریقہ: پھلیاں ہر 3 تا 5 دن بعد توڑیں — مسلسل چنائی سے پودا مزید پھلیاں دیتا ہے۔
  • پیداوار: اچھی دیکھ بھال سے فی ایکڑ 40 سے 60 من (1600 سے 2400 کلوگرام) تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
  • ذخیرہ: تازہ مٹر کو فریج میں 1 سے 2 ہفتے رکھا جا سکتا ہے۔ منجمد کرنے سے 6 سے 8 ماہ تک محفوظ رہتا ہے۔
  • بیج کے لیے: کچھ پھلیاں پودے پر مکمل پکنے دیں، پھر توڑ کر خشک کریں — یہ بیج 5 سال تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

ایک اور منافع بخش موسم سرما کی سبزی کے لیے آلو کی کاشت کا طریقہ بھی پڑھیں۔ کھاد اور نامیاتی زرخیزی کے بارے میں کمپوسٹ کھاد بنانے کا طریقہ آپ کی مدد کرے گا۔


موزوں مٹی، معتدل موسم، بھگویا ہوا تصدیق شدہ بیج، درست فاصلہ، ہلکی باقاعدہ آبپاشی، متوازن کھاد اور بیماریوں سے بروقت بچاؤ — یہی چند آسان اصول مٹر کی کامیاب اور بھرپور کاشت کی کنجی ہیں۔ تھوڑی سی محنت اور منصوبہ بندی کے ساتھ یہ کم مدت والی فصل کسان کو بہترین پیداوار اور اچھا منافع دے سکتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

مٹر کب کاشت کیا جاتا ہے؟

مٹر موسم سرما کی فصل ہے۔ پاکستان میں میدانی علاقوں میں اکتوبر سے نومبر اور پہاڑی علاقوں میں اگست سے ستمبر تک بوائی کی جاتی ہے۔ بیج اگنے کے لیے 8 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت موزوں ہے۔

مٹر کے لیے کونسی مٹی بہترین ہے؟

مٹر بھربھری، اچھے نکاس والی زرخیز میرا (loam) مٹی میں بہترین اگتا ہے جس کی pH تقریباً 6.0 سے 7.0 ہو۔ زیادہ تیزابیت والی زمین میں چونا ڈال کر pH درست کیا جا سکتا ہے۔ کھڑے پانی والی زمین میں جڑیں گل جاتی ہیں۔

مٹر کے بیج کو کتنی گہرائی پر لگانا چاہیے؟

مٹر کے بیج کو 2 سے 4 سینٹی میٹر گہرائی پر لگائیں۔ قطاروں کے درمیان 30 سے 40 سینٹی میٹر اور پودوں کے درمیان 10 سے 15 سینٹی میٹر فاصلہ رکھیں۔ بیج کو بوائی سے ایک رات پہلے پانی میں بھگونے سے جلد اگاؤ ہوتا ہے۔

مٹر کو کتنا پانی چاہیے؟

مٹر کو زیادہ پانی کی ضرورت نہیں۔ بوائی کے فوراً بعد ہلکا پانی دیں، پھر 10 سے 15 دن کے وقفے سے آبپاشی کریں۔ پھول آنے اور پھلیاں بننے کے دوران نمی برقرار رکھیں — یہ پیداوار کا اہم ترین مرحلہ ہے۔ کھڑا پانی نقصان دہ ہے۔

مٹر کی فصل کب تیار ہوتی ہے؟

مٹر بوائی کے 60 سے 70 دن بعد پہلی پھلیاں توڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جب پھلیاں گہری سبز، بھری ہوئی اور تقریباً 7 سے 10 سینٹی میٹر لمبی ہوں تو توڑ لیں۔ مسلسل چنائی سے پودا مزید پھلیاں دیتا ہے۔

مٹر کی عام بیماریاں اور کیڑے کونسے ہیں؟

مٹر پر چیچک (powdery mildew)، اکھیڑا (damping off)، روئیں دار پھپھوندی (downy mildew) جیسی بیماریاں اور تیلا (aphids)، امریکن سنڈی، چست تیلا جیسے کیڑے حملہ کرتے ہیں۔ تصدیق شدہ بیج، مناسب نکاس، فصل کی ہیر پھیر اور بروقت سپرے سے بچاؤ ممکن ہے۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں