لہسن اگانے کا طریقہ: کاشت سے کٹائی تک مکمل گائیڈ

زراعت
اٹلی کے زرعی کھیت میں سرسبز لہسن کے پودے صاف آسمان کے نیچے پھل پھول رہے ہیں

پاکستان میں لہسن اگانے کا بہترین وقت اکتوبر سے نومبر ہے۔ پوتھیوں کو 3 سے 5 سینٹی میٹر گہرا اور 15 × 10 سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگائیں، نوک اوپر رکھیں۔ زرخیز اور اچھی نکاسی والی زمین، باقاعدہ آبپاشی اور بروقت کھاد سے اپریل سے مئی تک بھرپور فصل تیار ہو جاتی ہے۔

لہسن پاکستان کی ہر باورچی خانے کی ضرورت ہے اور بازار میں اس کی قیمت بھی اچھی رہتی ہے۔ گھر کے باغیچے میں ہو یا کھیت میں — لہسن کی کاشت نسبتاً آسان ہے بشرطیکہ چند بنیادی اصولوں پر عمل کیا جائے۔ زعفران کی کاشت کی طرح لہسن بھی ایک قیمتی فصل ہے جو صحیح تکنیک سے گھریلو ضرورت پوری کرنے کے ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

تازہ لہسن کی گنڈھیاں وکر کی ٹوکری میں — لہسن پاکستان کی ایک اہم اور قیمتی فصل ہے

پاکستان میں لہسن کی اقسام

Agrinfobank کے مطابق پاکستان میں علاقے کے مطابق مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہیں:

شمالی علاقہ جات (KPK، گلگت بلتستان): پشاوری اور چترالی لہسن مشہور ہیں۔ یہ چھوٹے سائز کی گنڈھیاں لیکن تیز ذائقہ اور خوشبو رکھتی ہیں۔ مقامی کاشت کے لیے موزوں۔

پنجاب: فیصل آبادی اور ملتانی اقسام زیادہ رائج ہیں۔ درمیانے سائز کی گنڈھیاں، اچھی پیداوار اور تجارتی کاشت کے لیے مناسب۔

سندھ: سندھڑی اور لاڑکانہ کی اقسام گرم موسم کے لیے موزوں ہیں۔ پکنے میں کم وقت لگتا ہے۔

بلوچستان: چمن اور کوئٹہ کے لہسن کا ذائقہ بہتر مانا جاتا ہے اور یہ ذخیرے میں زیادہ عرصہ چلتا ہے۔

NARC G1: پاکستانی زرعی تحقیقی ادارے (NARC) کی تیار کردہ اقسام تجارتی کاشت کے لیے بہترین ہیں — زیادہ پیداوار، بیماریوں کے خلاف قدرے مزاحمت اور اچھی ذخیرہ صلاحیت۔

پنجاب پاکستان میں تازہ جوتی ہوئی زمین کا فضائی منظر — لہسن لگانے سے پہلے زمین اسی طرح تیار کی جاتی ہے

زمین کی تیاری اور لہسن لگانے کا طریقہ

زمین کی تیاری: لہسن کے لیے ہلکی، زرخیز اور اچھی نکاسی والی میرا زمین بہترین ہے۔ بھاری یا اٹی ہوئی زمین میں گنڈھیاں چھوٹی اور بدشکل بنتی ہیں۔ University of Minnesota Extension کے مطابق زمین کا pH 6.0 سے 7.0 کے درمیان ہونا چاہیے۔

  1. کاشت سے تین سے چار ہفتے پہلے ایک بار ہل چلائیں اور پھر دو سے تین بار سادہ ہل لگا کر مٹی کو باریک کریں
  2. فی ایکڑ 8 سے 10 ٹن گوبر کی پکی ہوئی کھاد ملائیں — بائیو گیس پلانٹ کی سلری بھی یہاں بطور نامیاتی کھاد انتہائی مؤثر ہے
  3. زمین کو سہاگے سے ہموار کریں اور 90 سے 120 سینٹی میٹر چوڑی کیاریاں بنائیں

بیج (پوتھیاں) کا انتخاب: یہ لہسن کی فصل کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔ ایک کمزور پوتھی کبھی اچھی گنڈھی نہیں دے گی۔

  • بڑی، صحت مند اور بیماری سے پاک گنڈھیوں کی بیرونی اور درمیانی پوتھیاں استعمال کریں — اندرونی چھوٹی پوتھیاں چھوڑ دیں
  • تقریباً 200 کلوگرام پوتھیاں فی ایکڑ درکار ہوتی ہیں
  • کاشت سے پہلے پوتھیوں کو کسی فنگی سائڈ (جیسے Thiram 0.2%) کے محلول میں 15 سے 20 منٹ بھگوئیں

لگانے کا طریقہ:

  1. قطاروں کا فاصلہ 15 سینٹی میٹر رکھیں، پوتھیوں کے درمیان 10 سینٹی میٹر
  2. پوتھی کو 3 سے 5 سینٹی میٹر گہرا لگائیں — نوک (تیز سرا) اوپر کی طرف رکھیں
  3. لگانے کے فوری بعد پہلا پانی دیں
کاشتکار فصل کی آبپاشی کر رہے ہیں — لہسن کو ہلکی مگر باقاعدہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے

آبپاشی، کھاد اور جڑی بوٹیوں کا انتظام

آبپاشی: لہسن کو نہ بہت زیادہ اور نہ بہت کم پانی چاہیے — جمع شدہ پانی گنڈھیاں سڑا دیتا ہے۔

  • کاشت کے فوری بعد پہلی آبپاشی
  • اگلے 7 سے 10 دن کے وقفے سے آبپاشی کا سلسلہ جاری رکھیں
  • گنڈھیاں بننے کے وقت پانی یکساں رکھنا بہت ضروری ہے
  • کٹائی سے 10 سے 15 دن پہلے آبپاشی مکمل طور پر بند کر دیں

کھادوں کا استعمال: Times of Agriculture کے مطابق لہسن کو مرحلہ وار متوازن کھاد سب سے بہتر نتیجہ دیتی ہے:

  • کاشت کے وقت: پوری فاسفورس (P) اور پوٹاشیم (K) ملائیں
  • اگاؤ کے بعد (30 دن): نائٹروجن کی پہلی قسط دیں
  • 60 دن بعد: نائٹروجن کی دوسری قسط

فی ایکڑ تجویز کردہ مقدار: نائٹروجن 75 کلو + فاسفورس 85 کلو + پوٹاشیم 55 کلو۔

جڑی بوٹیوں کا انتظام: لہسن جڑی بوٹیوں کا خراب مقابلہ کرتا ہے — ابتدائی گھاس اگنے سے گنڈھیوں کا سائز مستقل طور پر کم ہو جاتا ہے۔

  • کاشت کے 20 سے 25 دن بعد پہلی گوڈی کریں
  • 40 سے 45 دن بعد دوسری گوڈی ضروری ہے
  • ہاتھ سے کٹائی یا منظور شدہ جڑی بوٹی مار دوائی (herbicide) استعمال کی جا سکتی ہے

کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچاؤ

عام کیڑے:

  • تھرپس: پتوں کو چاٹ کر چاندی رنگی دھاریاں بناتے ہیں۔ Imidacloprid یا Spinosad سے قابو کریں
  • پیاز مکھی (Onion Maggot): جڑوں اور گنڈھیوں میں گھس کر نقصان پہنچاتی ہے۔ فصل کا ہیرپھیر (crop rotation) سب سے اہم احتیاط ہے
  • کٹ ورم: زمین کے قریب تنا کاٹتے ہیں — رات کے وقت زیادہ فعال

عام بیماریاں:

  • پرپل بلاچ (Purple Blotch): پتوں پر ارغوانی دھبے۔ Mancozeb سے 10 سے 14 دن کے وقفے سے سپرے کریں
  • سفید سڑاند (White Rot): جڑوں پر سفید پھپھوندی — متاثرہ پودے فوری اکھاڑ کر جلا دیں
  • زنگ (Rust): پتوں پر سنہری دھبے — مزاحم اقسام کا انتخاب اور پانی کی یکسانیت مددگار ہے
  • ڈاؤنی ملڈیو: ٹھنڈے اور نم موسم میں پھیلتا ہے — اچھی ہوادار کیاریاں بنائیں

بیماریوں کے خلاف سب سے مؤثر طریقہ فصل کا ہیرپھیر ہے — ایک ہی زمین پر مسلسل پیاز یا لہسن نہ لگائیں۔

تازہ کٹی ہوئی لہسن کی گنڈھیاں جڑوں سمیت — درست وقت پر کاشت سے بھرپور فصل ملتی ہے

کٹائی، کیورنگ اور ذخیرہ

کٹائی کا صحیح وقت: جب 60 سے 70 فیصد پتے پیلے پڑ کر گرنے لگیں اور تنے ٹوٹنے لگیں تو فصل تیار ہے۔ میدانی علاقوں میں یہ اپریل سے مئی کے درمیان ہوتا ہے۔

کٹائی کا طریقہ:

  1. پہلے ہلکا پانی دے کر زمین نرم کریں
  2. پودے کو جڑوں کے قریب سے ہلکے سے ڈھیلا کر کے پوری گنڈھی سمیت نکالیں — کبھی تنا کھینچ کر نہ نکالیں
  3. کٹی ہوئی فصل کو کھیت میں ہی 2 سے 3 گھنٹے سوکھنے دیں، پھر اکٹھا کریں

کیورنگ (Curing): یہ وہ مرحلہ ہے جو اکثر نظرانداز ہوتا ہے مگر ذخیرے کی مدت کا فیصلہ یہیں ہوتا ہے۔ کٹائی کے بعد گنڈھیاں:

  • سائے میں، ہوادار جگہ پر 10 سے 15 دن رکھیں
  • گنڈھیاں اوور لیپ نہ کریں — ہوا کا گزر ضروری ہے
  • مکمل کیورنگ کے بعد بیرونی پرت خشک اور کاغذی ہو جاتی ہے

ذخیرہ:

  • ٹھنڈی، خشک اور ہوادار جگہ — 6 سے 8 مہینے تک قابل استعمال
  • پلاسٹک بیگ یا فریج میں نہ رکھیں — کیونکہ نمی سے جلدی خراب ہو جاتا ہے
  • جالی دار تھیلی یا کھلی ٹوکری میں لٹکا کر رکھنا بہترین طریقہ ہے

گھر کے گملے میں لہسن اگانا

جن کے پاس زمین نہیں وہ چھت یا بالکونی میں گملے میں لہسن اگا سکتے ہیں — طریقہ بالکل آسان ہے:

  1. گملہ: کم از کم 20 سینٹی میٹر گہرا گملہ لیں۔ نیچے نکاسی کا سوراخ ضروری ہے
  2. مٹی: ریتیلی اور کوکوپیٹ کا مکس (برابر مقدار) بہترین ہے — گوبر کی ہلکی سی کھاد ملائیں
  3. لگانا: پوتھیاں 5 سینٹی میٹر گہری اور 10 سینٹی میٹر دور لگائیں، نوک اوپر
  4. دھوپ: روزانہ کم از کم 6 گھنٹے دھوپ ضروری ہے — دھوپ کم ہو تو گنڈھیاں چھوٹی بنیں گی
  5. پانی: مٹی کی سطح خشک ہو تو پانی دیں — جمع شدہ پانی سے بچیں
  6. کٹائی: جب پتے پیلے پڑیں تو پوتھی سمیت نکالیں

گھریلو ضرورت کے لیے 10 سے 15 گملے بھی کافی مقدار میں لہسن دے سکتے ہیں۔ گائے کا دودھ بڑھانے والی کھاد کی سلری بھی گملے کے لہسن کو بہترین غذائیت دیتی ہے۔


لہسن پاکستان کی ایک ایسی فصل ہے جو تھوڑی توجہ سے بھرپور پیداوار دیتی ہے۔ بروقت کاشت، بڑی پوتھیوں کا انتخاب، متوازن کھاد اور بروقت کٹائی — یہ چار اصول اپنا لیں تو نہ گنڈھیاں چھوٹی بنیں گی اور نہ فصل خراب ہو گی۔ چاہے کھیت ہو یا گھر کی چھت — لہسن ہر جگہ اگایا جا سکتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

لہسن کاشت کرنے کا بہترین وقت کیا ہے؟

پاکستان کے میدانی علاقوں (پنجاب، سندھ) میں لہسن کاشت کا بہترین وقت اکتوبر کا وسط سے نومبر کا وسط ہے۔ پہاڑی علاقوں (KPK، بلوچستان کے سرد حصے) میں مارچ سے اپریل میں کاشت کی جاتی ہے۔ ٹھنڈا موسم گنڈھیاں بنانے کے لیے ضروری ہے۔

لہسن کی فصل کتنے عرصے میں تیار ہوتی ہے؟

اکتوبر یا نومبر میں لگایا ہوا لہسن اپریل سے مئی میں تیار ہوتا ہے، یعنی تقریباً 5 سے 6 مہینے لگتے ہیں۔ جب 60 سے 70 فیصد پتے پیلے پڑ کر گرنے لگیں تو فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔

لہسن کو کتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے؟

لہسن کو ہلکا مگر باقاعدہ پانی چاہیے۔ کاشت کے فوری بعد پہلا پانی دیں، پھر 7 سے 10 دن کے وقفے سے آبپاشی کرتے رہیں۔ گنڈھیاں بننے کے وقت پانی یکساں رکھیں۔ کٹائی سے 10 سے 15 دن پہلے پانی بند کر دیں۔

گملے میں لہسن کیسے اگائیں؟

ایک گہرے گملے (کم از کم 15 سینٹی میٹر) میں زرخیز مٹی بھریں۔ لہسن کی پوتھیاں 5 سینٹی میٹر گہری اور 10 سینٹی میٹر دور لگائیں، نوک اوپر رکھیں۔ روزانہ دھوپ ضروری ہے۔ گملے کو دھوپ والی جگہ پر رکھیں اور نمی برقرار رکھیں۔

لہسن کی کٹائی کیسے کریں؟

جب اکثر پتے پیلے پڑ جائیں تو ہلکے سے زمین ڈھیلی کر کے پورا پودا اکھاڑیں — گنڈھی کھینچ کر نہ نکالیں ورنہ تنا ٹوٹ سکتا ہے۔ کٹی ہوئی فصل کو سائے میں رکھ کر 10 سے 15 دن کیورنگ کریں۔

لہسن کو کتنے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

صحیح کیورنگ کے بعد لہسن ٹھنڈی، خشک اور ہوادار جگہ میں 6 سے 8 مہینے تک محفوظ رہتا ہے۔ فریزر میں چھلا ہوا لہسن 1 سال تک استعمال ہو سکتا ہے۔ پلاسٹک بیگ میں بند کرنا یا فریج میں رکھنا گنڈھیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔